میر علی رضا کی زندگی کے آخری 12 گھنٹے معمول کے مطابق شروع ہوئے، جس میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا کوئی اشارہ نہیں ملتا تھا۔ تفتیشی حکام نے اب ان آخری گھنٹوں کی ایک ایسی ٹائم لائن ترتیب دی ہے جو بظاہر معمولی نظر آنے والی مصروفیات کے گرد گھومتی ہے، لیکن اس کا اختتام ایک المیے پر ہوا۔
رضا کے دن کا آغاز صبح سوا آٹھ بجے ان کی رہائش گاہ سے ہوا، جہاں سیکیورٹی کیمروں نے انہیں دفتر روانہ ہوتے ہوئے ریکارڈ کیا۔ صبح کا وقت انہوں نے لگاتار میٹنگز میں گزارا، جو ان کے معمول کا حصہ تھا۔ دفتر میں موجود ساتھیوں کے مطابق وہ اپنے کام میں مگن تھے اور ان کے چہرے پر کسی قسم کی پریشانی یا خوف کے آثار نہیں تھے۔
دوپہر دو بجے کے بعد حالات نے رخ بدلا۔ ڈیجیٹل فرانزک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ رضا نے اپنے معمول کا راستہ چھوڑا اور ایک مقامی کیفے میں تقریباً 40 منٹ قیام کیا۔ ریکارڈ کے مطابق وہ وہاں اکیلے تھے اور بار بار اپنا فون چیک کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کوئی کال نہیں سنی اور کیفے سے نکلتے وقت بھی کسی سے گفتگو نہیں کی۔
شام ساڑھے چار بجے سے سات بجے تک کا وقت تفتیش کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس دوران ان کی نقل و حرکت شہر کے سیکیورٹی نیٹ ورک کے ‘بلائنڈ اسپاٹس’ میں گم رہی۔ پولیس نے ٹول پلازہ کا ڈیٹا اور سیل ٹاور پنگز حاصل کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ شہر کے شمالی اضلاع میں موجود تھے، جہاں وہ شاذ و نادر ہی جاتے تھے۔
کیس سے وابستہ ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم کسی پہلے سے طے شدہ ملاقات کو نہیں دیکھ رہے۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ وہ کسی خاص مقصد کے تحت گاڑی چلا رہے تھے، لیکن ان کا پیچھا نہیں کیا جا رہا تھا۔ وہ کسی ایسی ملاقات کی طرف جا رہے تھے جس کا ذکر انہوں نے اپنے اسٹاف سے نہیں کیا تھا۔”
رات سوا آٹھ بجے ان کی گاڑی انڈسٹریل پارک کے قریب ایک نجی سیکیورٹی کیمرے میں دیکھی گئی۔ وہ تقریباً ایک گھنٹہ گاڑی میں بیٹھے رہے اور پھر باہر نکلے۔ یہ ان کی زندگی کی آخری مصدقہ فوٹیج ہے۔
تحقیقات کا رخ اب ان کے فون پر آنے والے پیغامات کی طرف مڑ گیا ہے، خاص طور پر وہ خفیہ پیغامات جو انہوں نے گاڑی روکنے سے چند منٹ قبل بھیجے تھے۔ اگرچہ پولیس نے وصول کنندہ کی شناخت ظاہر نہیں کی، مگر انہوں نے کسی اتفاقی واقعے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کی آخری نقل و حرکت بتاتی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ کس سے ملنے جا رہے ہیں اور داؤ پر کیا لگا ہوا ہے۔
فرانزک ٹیمیں اب ڈیجیٹل ٹریل اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کا موازنہ کر رہی ہیں۔ اب تک کے شواہد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ جس شخص نے صبح دفتر سے نکلتے وقت ایک معمول کے دن کی توقع کی تھی، رات تک وہ ایسی صورتحال میں گھر چکا تھا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
