پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت کمر میں لگنے والی ایک گولی سے ہوئی۔ طبی معائنے کی یہ رپورٹ آج صبح جاری کی گئی، جس نے ان ابتدائی دعووں کو غلط ثابت کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ فائرنگ کے وقت مقتول اور حملہ آور کا آمنا سامنا تھا۔
رپورٹ میں گولی کے داخل ہونے کا جو زاویہ بیان کیا گیا ہے، وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گولی پیٹھ کے پیچھے سے ماری گئی۔ اس انکشاف نے مقامی پولیس کے اس مؤقف کو کمزور کر دیا ہے جس میں اسے ‘دفاعی فائرنگ’ قرار دیا جا رہا تھا۔ فرانزک ماہرین اب گولی چلانے والے کے فاصلے کا تعین کر رہے ہیں؛ تاہم ابتدائی شواہد کے مطابق گولی کافی فاصلے سے چلائی گئی، کیونکہ مقتول کے کپڑوں پر بارود کے نشانات موجود نہیں ہیں۔
اس کیس سے جڑے ایک فرانزک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "طبی شواہد واضح ہیں۔ گولی لگنے کے مقام سے یہ طے ہوتا ہے کہ فائرنگ کے وقت مقتول کا رخ کس طرف تھا۔”
منگل کی شب پیش آنے والے اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقتول کے لواحقین نے آج تھانے کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تفتیش کا رخ تبدیل کیا جائے۔ ان کا اصرار ہے کہ میر رضا علی نہتے تھے اور گولی لگنے کے وقت وہ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے۔
پولیس حکام نے ابھی تک اس تضاد پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا جو پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ابتدائی پولیس ریکارڈ کے درمیان سامنے آیا ہے۔ تفتیشی افسر کو انکوائری مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے، لیکن محکمہ پولیس نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ آیا یہ فیصلہ فرانزک رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے یا نہیں۔
اب تفتیش کا مرکز ہتھیار کی برآمدگی اور واقعے کے وقت کے تعین پر ہے۔ مقتول کے خاندان کے لیے یہ رپورٹ محض ایک طبی دستاویز نہیں، بلکہ ایک طویل قانونی جنگ کا نقطہ آغاز ہے۔
