کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے منگل کے روز اینکر مرید عباس اور ان کے ساتھی خضر حیات کے ہائی پروفائل قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عاطف زمان کو دو بار سزائے موت کا حکم دے دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی میڈیا انڈسٹری کو ہلا کر رکھ دینے والا یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج نے طویل سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے ملزم کو 9 جولائی 2019 کی رات ڈیفنس کے علاقے میں مرید عباس اور خضر حیات کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا مجرم قرار دیا۔ عدالت نے ملزم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا، جو مقتولین کے ورثاء کو بطور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
قتل کی وجہ کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کا تنازعہ بنی۔ تفتیشی حکام کے مطابق مرید عباس اور خضر حیات نے عاطف زمان کے ٹائروں کے کاروبار میں خطیر رقم لگائی تھی۔ جب سرمایہ کاری ڈوب گئی اور منافع ملنا بند ہوا تو مقتولین نے رقم کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھایا۔
عاطف زمان نے اس قرض سے جان چھڑانے کے لیے قتل کا راستہ چنا۔
واقعے کی رات، زمان نے دونوں افراد کو ڈیفنس کے ایک کیفے میں بلایا۔ عینی شاہدین کے مطابق، وہاں مختصر تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد زمان نے پستول نکالی اور دونوں پر گولیاں برسا دیں۔ اس کے بعد اس نے خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی، تاہم وہ بچ گیا اور پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
استغاثہ نے عدالت میں فرانزک رپورٹس، کیفے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور عینی شاہدین کے بیانات پیش کیے، جس کے بعد ملزم کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہ رہا۔ عدالت نے دفاعی وکلاء کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ یہ واقعہ اچانک جھگڑے کا نتیجہ تھا؛ عدالت نے اسے ٹھنڈے دل و دماغ سے کیا گیا قتل قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت سزا سنائی۔
مرید عباس اور خضر حیات کے ورثاء کے لیے یہ فیصلہ ایک طویل انتظار کا خاتمہ ہے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتولین کے لواحقین کے نمائندے نے کہا کہ "ہم برسوں سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔ قانون نے بالآخر اس سفاکانہ واقعے کا انصاف کر دیا ہے۔”
عاطف زمان فی الحال جیل میں ہے اور امکان ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرے گا۔ فی الحال، یہ عدالتی فیصلہ غیر منظم نجی سرمایہ کاری کے خطرات اور پیشہ ورانہ تعلقات کے تلخ انجام پر ایک سخت تنبیہ ہے۔
