بنکاک کے نواحی ضلع ستہیپ میں واقع ‘ماؤنٹین بی’ پب میں لگنے والی آگ نے 27 زندگیاں نگل لیں۔ جمعہ کی رات تقریباً ایک بجے جب موسیقی کی محفل اپنے عروج پر تھی، عمارت کے اندر موجود ساؤنڈ پروفنگ فوم نے آگ پکڑ لی، جس سے شعلے چند سیکنڈوں میں پورے ہال میں پھیل گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق، آگ ڈی جے بوتھ کے قریب سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے عمارت دھوئیں کے سیاہ بادلوں میں گھر گئی۔ پب کا واحد داخلی و خارجی راستہ ہونے کے باعث وہاں بھگدڑ مچ گئی، جہاں لوگ جان بچانے کے لیے ایک دوسرے کو روندتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔
ایک زخمی نے امدادی ٹیموں کو بتایا، "میں نے آگ بھڑکتی دیکھی تو ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ لوگ چیخ رہے تھے اور باہر نکلنے کے واحد دروازے پر ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے۔”
ابتدائی تحقیقات میں سنگین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق، عمارت میں حفاظتی قوانین کی دھجیاں اڑائی گئی تھیں۔ ضوابط کے تحت ایسی جگہوں پر کم از کم دو ہنگامی راستے ہونا لازمی ہیں، لیکن اس پب میں صرف ایک ہی راستہ فعال تھا۔ حکام نے پب کے مالک پونگسیری پان پراسونگ کے خلاف غفلت برتنے اور ہلاکتوں کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیش کار اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا پب کے پاس آپریشن کا درست لائسنس موجود تھا یا حفاظتی معائنوں کو رشوت یا اثر و رسوخ کے ذریعے نظر انداز کیا گیا۔
اس سانحے نے تھائی لینڈ کے نائٹ لائف سیکٹر میں حفاظتی ضوابط کے نفاذ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے ملک بھر میں نائٹ کلبوں کے معائنے کا حکم دیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ کرپشن کے باعث مالکان اکثر حفاظتی قوانین کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور ایسے افسوسناک واقعات کے بعد ہی انتظامیہ کی آنکھ کھلتی ہے۔
فی الحال جائے وقوعہ کو فرانزک تحقیقات کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس سانحے میں زیادہ تر نوجوان اور مقامی طلباء شامل تھے، جن کی موت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔
ایک مقامی عہدیدار نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے اس کمرے میں اپنے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کھو دی ہے۔ حفاظتی قوانین کاغذوں پر لکھے جاتے ہیں، لیکن ان کی خلاف ورزی کی قیمت اکثر خون سے ادا کرنی پڑتی ہے۔”
