اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات مقامی مسائل کے بجائے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت کے لیے ایک بڑے ریفرنڈم کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ اگرچہ ان انتخابات کا محور معمول کے مطابق شہروں کی صفائی، اسکولوں کا بجٹ اور زوننگ جیسے مسائل ہونے چاہیے تھے، لیکن اس بار ووٹرز کی نظریں قومی سیاست کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر مرکوز ہیں۔
یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک شدید سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ عدالتی اصلاحات کے متنازع بل نے نہ صرف سڑکوں پر احتجاج کو جنم دیا بلکہ فوج اور کاروباری طبقے میں بھی گہری دراڑیں ڈال دی ہیں۔ نیتن یاہو کے لیے یہ انتخابی نتیجہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا ان کا حامی ووٹ بینک اب بھی متحد ہے یا حالیہ سیاسی بحران کے بعد ان کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔
اپوزیشن جماعتیں ان انتخابات کو اپنی کھوئی ہوئی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ اگر اپوزیشن کے حمایت یافتہ امیدوار بڑے شہری مراکز میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں، تو یہ نیتن یاہو کی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہوگا کہ عوام اب ان کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔ دوسری طرف، اگر حکمران جماعت ‘لیکوڈ’ کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں تو نیتن یاہو اسے اپنی سیاسی بقا اور عوامی حمایت کی بحالی کے طور پر پیش کریں گے۔
اس الیکشن میں ٹرن آؤٹ یعنی ووٹ ڈالنے کی شرح فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ عام طور پر بلدیاتی انتخابات میں ووٹرز کی دلچسپی قومی اسمبلی کے مقابلے میں کم رہتی ہے، مگر موجودہ حالات نے اس روایت کو بدل دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری بے چینی ووٹرز کو بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں تک کھینچ لائے گی۔ تل ابیب، یروشلم اور حیفا جیسے بڑے شہروں میں ہونے والے انتخابات اب مقامی نہیں بلکہ قومی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
یروشلم میں تعینات ایک تجربہ کار سیاسی حکمت عملی ساز نے کہا، "یہ انتخابات اب صرف گلیوں کی صفائی یا پارکوں کے انتظام تک محدود نہیں ہیں۔ 27 اکتوبر کو بیلٹ باکس وہ جگہ ہوگی جہاں عام اسرائیلی اپنی مایوسی کا اظہار کرے گا یا پھر حکومت کی موجودہ سمت پر اپنی مہر تصدیق ثبت کرے گا۔”
انتخابی نتائج اس بات کا پہلا ٹھوس ڈیٹا فراہم کریں گے کہ سال کے آغاز سے اب تک ووٹرز کا مزاج کس حد تک تبدیل ہوا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے خطرہ واضح ہے؛ اگر ان کی جماعت کی کارکردگی مایوس کن رہی تو قبل از وقت قومی انتخابات کے مطالبات میں شدت آئے گی، جو ان کے طویل سیاسی کیریئر کے لیے اختتامی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں۔
پولنگ اسٹیشن کھلنے کے ساتھ ہی سب کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ آیا عوام سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کی شدت کو بیلٹ باکس تک لے کر آتے ہیں یا پھر مقامی مسائل کی حقیقت پسندی سیاسی تقسیم کو کچھ دیر کے لیے پسِ پشت ڈال دے گی۔ انتخابات کے نتائج، جن کا اعلان رات گئے متوقع ہے، حکومت کی باقی ماندہ مدت کا ایجنڈا طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
