سندھ ہائی کورٹ نے کراچی یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کرپشن کیس میں تفتیشی حکام کو چارج شیٹ جمع کروانے کے لیے مزید مہلت دے دی ہے۔ یہ ڈیڈ لائن میں توسیع کا ایک اور مرحلہ ہے، جس نے اس منصوبے کی تکمیل میں پہلے ہی غیر معمولی تاخیر پیدا کر دی ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ نیب کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ داؤد چورنگی سے نمائش تک جانے والی اس بس سروس کو برسوں پہلے فعال ہونا تھا، لیکن مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی نااہلی کے الزامات نے اس منصوبے کو ایک نہ ختم ہونے والے قانونی تعطل کا شکار کر رکھا ہے۔
مزید وقت دینے کے عدالتی حکم نے اب استغاثہ پر یہ دباؤ ڈال دیا ہے کہ وہ اگلی پیشی تک ٹھوس شواہد پیش کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عدالت کی جانب سے مزید سخت ریمارکس متوقع ہیں۔ اس تاخیر نے خود اس منصوبے کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، جو کبھی کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام کی ریڑھ کی ہڈی بننے والا تھا۔
منصوبے کے آغاز سے ہی فنڈز کے تنازعات اور انتظامی رکاوٹیں اس کی راہ میں حائل رہی ہیں۔ صوبائی حکومت اسے شہریوں کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے، مگر ناقدین کا ماننا ہے کہ قانونی عمل میں بار بار کی یہ تاخیر محکمہ منصوبہ بندی میں موجود خامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کراچی کے عوام کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور طویل انتظار کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تفتیش میں توسیع کے بعد زمینی سطح پر تعمیراتی کام کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات فی الحال معدوم نظر آتے ہیں۔
عدالت نے تفتیشی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اگلی سماعت پر چارج شیٹ ہر صورت جمع کرائی جائے۔ قانونی جنگ کے اس طول پکڑنے سے منصوبے کی اصل لاگت پر بھی مہنگائی اور تاخیر کا بوجھ بڑھ رہا ہے، جس کا حتمی خمیازہ سرکاری خزانے اور عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
