ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے طبی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈسپوزایبل سرنجوں کے مخصوص بیچز کو مارکیٹ سے واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔ اتھارٹی نے ہسپتالوں، فارمیسیوں اور عوام کو خبردار کیا ہے کہ ان سرنجوں کا استعمال جان لیوا انفیکشن کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈریپ کی کوالٹی کنٹرول ٹیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ سرنجوں کی پیکنگ اور سٹیرلائزیشن (جراثیم سے پاک کرنے) کے عمل میں سنگین نقائص پائے گئے ہیں۔ یہ ناقص سرنجیں مارکیٹ میں پہنچ چکی تھیں، جس کے بعد حکام نے ہنگامی بنیادوں پر ان کی واپسی کا عمل شروع کیا ہے۔
اسلام آباد میں ڈریپ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا، "مریضوں کی جان سے بڑھ کر کچھ نہیں، اس لیے ہم نے ان تمام بیچز کو فوری طور پر تلف کرنے یا واپس کرنے کا حکم دیا ہے جن کی پیکنگ مشکوک ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی طبی مرکز کو ان سرنجوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ سرنجیں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کے بڑے شہروں میں تقسیم کی گئی تھیں۔ تفتیشی ٹیمیں اب اس بات کا تعین کر رہی ہیں کہ آیا یہ کوتاہی مینوفیکچرنگ کے دوران ہوئی یا ٹرانسپورٹیشن اور سٹوریج کے ناقص انتظامات کے باعث جراثیم سرنجوں تک پہنچے۔
طبی ماہرین کے مطابق، غیر جراثیم سے پاک سرنج کا استعمال خون میں زہر، ایبسس (پھوڑے) اور خطرناک وائرسز کی منتقلی کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مریضوں کو انجیکشن لگانے سے قبل پیکنگ پر درج بیچ نمبر کی تصدیق ضرور کریں۔
ڈریپ نے تمام ڈسٹری بیوٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سٹاک کو فوری طور پر قرنطینہ کریں اور متعلقہ حکام کو رپورٹ کریں۔ اتھارٹی اگلے 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر کے مینوفیکچرنگ یونٹس پر چھاپے مارنے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
اگر آپ کے پاس گھر میں یا کلینک میں سرنج موجود ہے، تو ڈریپ کی آفیشل ویب سائٹ پر دی گئی لسٹ کے ساتھ بیچ نمبر چیک کریں۔ اگر سرنج اس فہرست میں شامل ہے، تو اسے فوری طور پر کوڑے دان میں ڈال دیں اور قریبی فارمیسی کو مطلع کریں۔
حکام آج شام تک متاثرہ ڈسٹری بیوٹرز کی مکمل فہرست جاری کر دیں گے۔ فی الحال ترجیح صرف یہی ہے کہ یہ خطرناک طبی آلات مریضوں تک پہنچنے سے پہلے مارکیٹ سے مکمل طور پر ہٹا دیے جائیں۔
