مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے شہدا سے متعلق حالیہ بیان کو ‘نامناسب’ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اس معاملے پر کسی معافی کے مطالبے سے گریز کیا ہے۔ حکومتی مشیر کا مؤقف ہے کہ جے یو آئی سربراہ کے الفاظ فوج کے خلاف کوئی سوچی سمجھی سازش نہیں بلکہ محض ایک غلطی تھے۔
یہ تنازع مولانا فضل الرحمان کی ایک تقریر کے بعد کھڑا ہوا، جس میں انہوں نے حالیہ سکیورٹی آپریشنز کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔ اس بیان پر سیاسی حریفوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں انہیں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے معاملے کو سیاسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کشیدگی ملکی اداروں کے خلاف کسی منظم بیانیے کا حصہ نہیں، بلکہ موجودہ گرم سیاسی ماحول کا نتیجہ ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا، "مولانا صاحب ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ الفاظ کا چناؤ یقیناً غلط تھا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کے پیچھے کوئی بدنیتی کارفرما تھی۔”
حکومتی اتحاد اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے (ن) لیگ کو جے یو آئی کی حمایت درکار ہے، لیکن دوسری جانب فوج کی ساکھ کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنا بھی حکومت کے لیے سیاسی طور پر مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا یہ درمیانی راستہ بظاہر اسی توازن کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے تاکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کیے بغیر اتحادی کو بھی ساتھ رکھا جا سکے۔
اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر حکومت کی نرمی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومتی جواب کا دھیما پن دراصل اتحادی حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، جہاں سیاسی بقا کو قومی بیانیے پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
جے یو آئی کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ معاملہ محض ایک وقتی سیاسی تلخی ثابت ہوتا ہے یا ریاستی اداروں کے کردار پر بحث کو مزید ہوا دیتا ہے، اس کا انحصار آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت پر ہوگا۔
