یورپی کمیشن نے اپنی ماحولیاتی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے صنعتی شعبوں کے لیے کاربن کے اخراج میں کمی کی رفتار کو سست کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے۔ برسلز کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رکن ممالک اور صنعتی اداروں کی جانب سے سخت ماحولیاتی ضوابط پر نظرثانی کا مطالبہ زور پکڑ چکا تھا۔
یہ تبدیلی 2050 تک ‘نیٹ زیرو’ ہدف کے حصول کے لیے طے کردہ عبوری ٹائم لائن میں نرمی لائے گی۔ یورپی مینوفیکچررز طویل عرصے سے یہ شکایت کر رہے تھے کہ توانائی کی بلند قیمتیں اور سخت حکومتی ضوابط ان کی عالمی مسابقت کو ختم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسیوں سے یورپ میں صنعتوں کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
کمیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے، جو داخلی مشاورت سے باخبر ہیں، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایسی تبدیلی مسلط نہیں کر سکتے جو ہماری بنیادی صنعتوں کی بقا کو ہی خطرے میں ڈال دے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ 2050 کے حتمی ہدف کو ختم نہیں کرے گا، بلکہ اسٹیل، کیمیکل اور سیمنٹ جیسی توانائی کی زیادہ کھپت والی صنعتوں کے لیے ہدف تک پہنچنے کا دورانیہ بڑھا دے گا۔
یہ فیصلہ برسلز میں ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں اور گرین لابی کا ماننا ہے کہ کسی بھی قسم کی تاخیر یورپی گرین ڈیل کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گی، اور یہ کہ سست روی اپنانے سے مستقبل میں یہ منتقلی مزید مہنگی اور تکنیکی طور پر مشکل ہو جائے گی۔ دوسری جانب صنعتی لابی کا مطالبہ ہے کہ یورپ کو امریکہ کے ‘انفلیشن ریڈکشن ایکٹ’ کی طرز پر ترغیبات پر مبنی ماڈل اپنانا چاہیے، نہ کہ صرف پابندیوں پر انحصار کرنا چاہیے۔
یہ پیش رفت ‘فٹ فار 55’ پیکج سے ایک واضح انحراف ہے، جو کبھی یورپی ماحولیاتی پالیسی کا مرکزی ستون سمجھا جاتا تھا۔ بلند شرح سود اور معاشی جمود کے دور میں، سخت اور تیز رفتار ماحولیاتی اقدامات کے لیے سیاسی حمایت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
یورپی کمیشن آئندہ چند ہفتوں میں اس تجویز کو باقاعدہ شکل دے گا۔ یہ فیصلہ بلاک کے ان رکن ممالک کے درمیان ایک بڑا امتحان ہوگا جو ماحولیاتی تبدیلیوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے درمیان جو اپنی صنعتی بقا کے لیے فکرمند ہیں۔ کیا یہ نرمی صنعتوں کو درکار مہلت فراہم کرے گی، یا پھر یہ ایک ناگزیر تبدیلی کو محض التوا میں ڈالنے کا عمل ہے؟ یہ سوال اگلے ایک دہائی تک یورپی معاشی ایجنڈے پر حاوی رہے گا۔
