سندھ حکومت نے نجی گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس اور سرکاری محکموں کے نشانات کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ صوبائی حکام نے بدھ کی رات اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔
کئی برسوں سے نجی گاڑیوں پر "گورنمنٹ آف سندھ” یا سرکاری محکموں کی نمبر پلیٹس کا استعمال ایک عام روایت بن چکا تھا۔ یہ پلیٹس ڈرائیوروں کے لیے ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ اور پارکنگ قوانین کو نظر انداز کرنے کا ایک آسان ذریعہ بن گئی تھیں۔
سندھ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک اعلیٰ افسر نے اس حوالے سے بتایا کہ سڑکوں کو غیر قانونی عناصر سے پاک کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی نجی شہری کے پاس ایسی گاڑی چلانے کا کوئی جواز نہیں جو سرکاری فلیٹ کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہو۔
ٹریفک پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی گاڑی کو فوری طور پر تحویل میں لے جس پر غیر مجاز سرکاری نمبر پلیٹ لگی ہو۔ یہ حکم ان گاڑیوں پر بھی لاگو ہوگا جو بغیر اجازت "صوبائی اسمبلی” یا "سیکریٹریٹ” کے ٹیگز استعمال کر رہی ہیں۔ افسران کو موقع پر ہی ایسی پلیٹس اتارنے اور مالکان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ عوامی شکایات کے بعد کیا گیا ہے، جن میں اکثر شہریوں نے ان گاڑیوں کے ذریعے کی جانے والی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور سیکیورٹی کے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اکثر ہٹ اینڈ رن یا دیگر جرائم میں ملوث ایسی گاڑیوں کا سراغ لگانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جن پر یا تو جعلی پلیٹس لگی ہوتی تھیں یا وہ ایسی سرکاری گاڑیوں کی ہوتی تھیں جن کا ریکارڈ محکمہ کے پاس موجود نہیں ہوتا۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے تاحال ضبط کی گئی پلیٹس کی حتمی تعداد جاری نہیں کی، تاہم ٹریفک پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مہم کو انتہائی سختی سے چلایا جائے گا۔ کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں خصوصی چیک پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں، جن کا ہدف خاص طور پر وہ مہنگی اور لگژری گاڑیاں ہوں گی جن پر غیر قانونی طور پر سرکاری پلیٹس آویزاں ہیں۔
عام شہریوں کے لیے یہ پالیسی سڑکوں پر نظم و ضبط بحال کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اصل امتحان اس قانون پر مستقل عمل درآمد کا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی ایسی مہمات سیاسی دباؤ اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کے باعث اپنی افادیت کھو دیتی رہی ہیں۔
فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں فوری طور پر ضبط کی جائیں گی، جبکہ بار بار قانون توڑنے والوں کے خلاف سرکاری عہدے کے غلط استعمال اور جعلسازی کے مقدمات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔
