اسلام آباد: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب سے دو افراد کو اغوا کرنے والے پانچ ملزمان کو پولیس نے بدھ کی صبح ایک کامیاب کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا۔
یہ واقعہ منگل کی رات پیش آیا جب ایئرپورٹ ٹرمینل سے نکلنے والے دو مقامی رہائشیوں کو مسلح افراد نے گاڑی میں زبردستی سوار کر کے اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق، یہ اغوا کا واقعہ بظاہر کسی رینڈم واردات کے بجائے ایک ٹارگٹڈ مالی تنازع کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔ پولیس نے فتح جنگ کے قریب ناکہ بندی کر کے گاڑی کو روکا اور مغویوں کو بازیاب کروا لیا۔
پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا، "ہم نے رپورٹ درج ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی گاڑی کی شناخت کر لی تھی۔ ہماری ٹیموں نے ملزمان کو اس سے پہلے کہ وہ مغویوں کو کسی خفیہ مقام پر منتقل کرتے، گھیرے میں لے لیا۔”
گرفتار ملزمان سے دو پستول اور جعلی نمبر پلیٹ لگی گاڑی برآمد ہوئی ہے۔ پولیس نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مغویوں کے نام ظاہر نہیں کیے، تاہم ان کی تصدیق کی ہے کہ دونوں افراد کو بدھ کی صبح ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اس واقعے نے ایئرپورٹ روڈ پر سیکیورٹی کے انتظامات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران نگرانی کے لیے کیمرے تو نصب کیے گئے، مگر رات کے اوقات میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے یہ راستہ تاحال غیر محفوظ دکھائی دیتا ہے۔
فی الحال تفتیشی ٹیموں کی توجہ پانچوں ملزمان سے ہونے والی پوچھ گچھ پر مرکوز ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ گروہ جڑواں شہروں میں سرگرم کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے یا یہ اغوا کا ایک الگ تھلگ واقعہ تھا۔
پولیس افسر کا مزید کہنا تھا، "ہم ملزمان کے ماضی کا ریکارڈ چیک کر رہے ہیں۔ اگر یہ ثابت ہوا کہ وہ پہلے بھی ایسی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں، تو ان کے خلاف مقدمات کی نوعیت مزید سنگین ہو جائے گی۔”
