عمان — اردن کی حکومت نے اتوار کے روز ساحلی شہر عقبہ کے اسٹریٹجک ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو خالی کرانے کی امریکی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہاں تمام آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں۔ یہ تردید عمان میں قائم امریکی سفارت خانے کی اس سیکیورٹی ایڈوائزری کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عقبہ میں شدید سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر دونوں اہم مقامات کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ اردنی حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے رائٹرز کو جاری ایک تحریری بیان میں کہا کہ متعلقہ اردنی حکام کی جانب سے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کسی قسم کا کوئی سیکیورٹی خطرہ ریکارڈ نہیں کیا گیا اور دونوں ٹرانزٹ پوائنٹس پر سرگرمیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔
اس سے قبل، امریکی سفارت خانے نے ایک ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایک "مخصوص اور معتبر خطرے” کی وجہ سے بندرگاہ اور ہوائی اڈے کو ہنگامی طور پر خالی کرایا گیا ہے۔ سفارت خانے نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر امریکی شہریوں کو ان مقامات پر سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز ہی امریکی فوج نے تصدیق کی تھی کہ اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں اس کے دو اہلکار ہلاک اور ایک لاپتا ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خطے میں جاری شدید کشیدگی کے باعث اردن نے اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے متعدد ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
