پاکستان ہیپاٹائٹس ڈیلٹاکے مریضوں کے لیے ایک بڑی طبی پیش رفت کے قریب ہے، جس کے تحت اس مرض کے علاج کے لیے جدید ترین تھراپی ’بلیویرٹائیڈ‘ متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔
محکمہ صحت کے حکام اور مقامی فارماسیوٹیکل نمائندوں نے تصدیق کی ہے کہ دوا کی منظوری کے ضابطہ اخلاق حتمی مراحل میں ہیں۔ اگر یہ منظوری مل جاتی ہے، تو یہ پہلا موقع ہوگا جب پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف ایک مخصوص ‘انٹری انہیبیٹر’ دوا عام دستیاب ہوگی، جو وائرس کو جگر کے خلیوں میں داخل ہونے سے روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس مرض کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا جگر کی سوزش کی سب سے خطرناک قسم ہے، جو ہیپاٹائٹس بی یا سی کے مقابلے میں جگر کے سکڑنے (سیروسس) اور کینسر کے خطرات کو کہیں زیادہ تیزی سے بڑھاتی ہے۔ برسوں سے پاکستانی ڈاکٹرز ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے علاج کے لیے ‘انٹرفیرون’ پر انحصار کر رہے تھے، جس کے ضمنی اثرات شدید ہوتے ہیں اور کامیابی کا تناسب بھی مایوس کن رہا ہے۔
اس معاملے پر کام کرنے والے ایک سینئر ہیپاٹولوجسٹ نے بتایا کہ، "ہم طبی علاج میں ایک بڑے تغیر کی جانب گامزن ہیں۔ انٹرفیرون ایک پرانا اور تکلیف دہ طریقہ تھا، جبکہ بلیویرٹائیڈ جگر کے لیے ایک ڈھال کا کام کرتی ہے۔ یہ ان مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جنہیں اب تک لاعلاج سمجھا جاتا تھا۔”
تاہم، طبی کامیابی کے ساتھ ساتھ دوا کی قیمت اور دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بلیویرٹائیڈ کی قیمت کافی زیادہ ہے، اور پاکستان جیسے ملک میں، جہاں صحت کا بجٹ پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے، اسے عام مریض کی پہنچ میں لانا حکام کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہے۔
فی الحال مذاکرات کا محور ایک ‘ٹیئرڈ پرائسنگ’ ماڈل ہے، جس کے تحت دوا کی قیمتوں کو کم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت اس دوا کی مقامی سطح پر تیاری یا بڑی سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں یہ علاج قابلِ برداشت ہو۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ، "ہمارا مقصد صرف دوا کی منظوری دینا نہیں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ دور دراز دیہات کا مریض بھی اس علاج تک اتنی ہی رسائی رکھے جتنی بڑے شہروں کے رہائشیوں کو حاصل ہے۔ ہم ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کریں گے جو صرف اشرافیہ تک محدود رہے۔”
پاکستان میں جگر کے امراض سے ہونے والی اموات کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے، جس کے باعث وزارتِ صحت پر جدید علاج کی سہولیات لانے کے لیے مسلسل دباؤ تھا۔ ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد، توقع ہے کہ حکومت آئندہ سہ ماہی کے اختتام تک اس دوا کی تقسیم کے باضابطہ شیڈول کا اعلان کر دے گی۔
اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، تو یہ پاکستان میں دیگر پیچیدہ اور مہنگی بیماریوں کے علاج کی فراہمی کے لیے ایک نیا معیار قائم کرے گا۔ فی الحال، تمام تر توجہ ان آخری انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے پر ہے تاکہ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے مریضوں کو برسوں کے انتظار کے بعد ایک مؤثر علاج میسر آ سکے۔
