مشرقِ وسطیٰ میں اتحادی افواج پر ہونے والے ایک حملے میں منگل کے روز ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے نے پہلے سے کشیدہ خطے کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پینٹاگون نے ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، تاہم لواحقین کو اطلاع دینے تک فوجی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عراق، شام اور بحیرہ احمر میں ایران نواز ملیشیاؤں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کئی ماہ سے ایک ‘محدود ردعمل’ کی پالیسی پر عمل پیرا تھی، لیکن اب یہ پالیسی کارگر ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔
اس ہلاکت نے پوری صورتحال کو بدل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس پر اب کانگریس کی جانب سے دباؤ ہے کہ وہ صرف پراکسی گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے براہِ راست تہران کو ہدف بنائے۔ ریپبلکن سینیٹرز کا اصرار ہے کہ موجودہ حکمتِ عملی ناکام ہو چکی ہے اور ایران کو اب مزید چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔
ایک دفاعی تجزیہ کار نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم اب محتاط ردعمل کے مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ جب آپ کے اپنے فوجی مارے جا رہے ہوں، تو خاموشی کی سیاسی قیمت، جنگ کے خطرے سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔”
پینٹاگون نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ پر عائد نہیں کی، لیکن ڈرونز اور راکٹوں کا استعمال ان گروہوں کے طریقہ کار سے مطابقت رکھتا ہے جنہیں تہران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ دوسری جانب ایران، ہمیشہ کی طرح، ان حملوں میں براہِ راست ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے اور انہیں خطے میں امریکی موجودگی کے خلاف مقامی مزاحمت کا نام دیتا ہے۔
یہ تنازع اب صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہا؛ یہ امریکی ساکھ اور ڈیٹرنس کا امتحان بن چکا ہے۔ خطے میں تعینات امریکی کمانڈرز ہفتوں سے خبردار کر رہے تھے کہ ‘جنگ کے اصول’ تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب جبکہ ایک امریکی تابوت وطن واپس بھیجا جا رہا ہے، انتظامیہ کے پاس سفارت کاری کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
قومی سلامتی کونسل کے حکام بدھ کی صبح وائٹ ہاؤس میں ہنگامی اجلاس کریں گے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے۔ اب کوئی بھی قدم اٹھانا اس بڑی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے جسے واشنگٹن گزشتہ ایک سال سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فی الحال، تمام تر توجہ ہلاک ہونے والے فوجی کے سوگوار خاندان پر مرکوز ہے، جبکہ اوول آفس میں ایک ایسے فیصلے کی تیاری کی جا رہی ہے جو خطے کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
