پشاور — خیبر پختونخوا اسمبلی نے منگل کے روز ‘کلاش میرج بل 2026’ متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس قانون سازی کے ساتھ ہی چترال کی وادیوں میں آباد کلاش قبیلے کی صدیوں پرانی شادی کی روایات کو پہلی بار ریاستی سطح پر قانونی حیثیت مل گئی ہے۔
کلاش قبیلے کے لوگ دہائیوں سے اپنی شادی بیاہ کے معاملات کو تحریری قوانین کے بجائے زبانی روایات کے تحت چلاتے آئے ہیں۔ ان روایات میں باہمی معاہدوں اور علیحدگی کے جو طریقے رائج ہیں، وہ اکثر قومی خاندانی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس بل کا مقصد اس قانونی خلا کو پُر کرنا ہے۔
صوبائی محکمہ قانون کے ایک عہدیدار نے غیر رسمی گفتگو میں کہا، "یہ صرف کاغذات کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا نام ہے کہ کلاش برادری کی ایک الگ سماجی شناخت ہے جسے ان کے طرزِ زندگی کے مطابق قانونی تحفظ درکار ہے۔”
نئے قانون کے تحت شادیوں کی رجسٹریشن کے لیے مقامی سطح پر کمیٹی قائم کی جائے گی۔ یہ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کلاش کی روایتی ‘شرا’ (شادی) کی رسومات دستاویزات میں محفوظ ہو جائیں، جبکہ انہیں کسی غیر ملکی یا بیرونی قانونی طریقہ کار اپنانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ بل کے ابتدائی مسودے پر کچھ تحفظات تھے کہ کہیں سرکاری مداخلت سے ان کی ثقافتی روح مجروح نہ ہو، جس کے پیشِ نظر اب مقامی عمائدین کی کونسل کو ازدواجی تنازعات میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ریاستی عدالتوں کا کردار صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت میں ہی ہوگا۔
یہ قانون ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کلاش برادری کو جدیدیت اور بدلتی ہوئی آبادیاتی صورتحال کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ قانون میں شادی کے لیے عمر کی حد بھی مقرر کی گئی ہے، تاکہ قومی معیارات کے مطابق کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ اس شق پر وادی کے کچھ روایتی حلقوں کی جانب سے ابتدائی مزاحمت بھی دیکھی گئی تھی۔
اسمبلی میں بل کے حق میں آوازیں بلند ہوئیں اور اسے کسی بڑی مخالفت کے بغیر منظور کر لیا گیا۔ چترال سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے اسے کلاش برادری کی ثقافتی شناخت کو آئینی تحفظ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
ایک مقامی نمائندے نے اجلاس کے بعد کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اگلی نسلیں ہماری روایات کو اپنائیں، لیکن ہمیں یہ بھی احساس ہے کہ موجودہ دور میں قانون کا تحفظ کتنا ضروری ہے۔”
صوبائی حکومت اسے اقلیتی حقوق کی بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، تاہم اصل امتحان اس کے نفاذ کا ہوگا۔ حکومت کو اب ان وادیوں میں ایسے مقامی رجسٹرار تعینات کرنا ہوں گے جو ریاستی قانون کی پیچیدگیوں اور کلاش روایات کی نزاکتوں کو یکساں سمجھتے ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ قانون پشاور کی فائلوں میں بند ہو کر رہ جائے گا۔
فی الحال، کلاش قبیلے کو اپنی روایات کے لیے ایک قانونی ڈھال مل گئی ہے — ایک ایسا اقدام جو اس خطے میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے جہاں اکثر سخت اور یکساں قانونی ضوابط کا غلبہ ہے۔
