وسطی چلی میں شدید طوفانی بارشوں کے ایک طاقتور سلسلے نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ ریکارڈ بارشوں کے باعث دریا بپھر گئے ہیں، جس سے رہائشی علاقے زیرِ آب آ گئے اور ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ جمعرات کی رات شروع ہونے والی اس بارش نے سڑکوں کو ندی نالوں میں بدل دیا ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
ماؤلے اور بیو بیو کے علاقوں میں حکام نے ہنگامی انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔ لونٹوے اور اندالیئن دریاؤں کے کناروں کے ٹوٹنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں ربڑ کی کشتیوں کے ذریعے ڈوبے ہوئے محلوں میں داخل ہو رہی ہیں، جہاں سے شہریوں کو گھروں کی چھتوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پانی کی سطح کئی مقامات پر گھروں کی دوسری منزل تک پہنچ چکی ہے۔
اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک کم از کم تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جو کانیٹے کے علاقے میں ریسکیو آپریشن کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھا۔ لوس ریوس کے علاقے میں ایک شخص کے سیلابی ریلے میں بہہ جانے کی اطلاعات ہیں، جس کی تلاش جاری ہے۔
بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان وسیع ہے۔ پین امریکن ہائی وے پر تودے گرنے سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا ہے، جس سے امدادی سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کیوریکو شہر میں پانی اسپتال کی نچلی منزل تک پہنچ گیا، جس کے بعد حکام نے ہنگامی بنیادوں پر مریضوں کو اوپری منزلوں پر منتقل کیا تاکہ بجلی کے نظام اور طبی آلات کو محفوظ رکھا جا سکے۔
صدر گیبریل بورک نے متاثرہ علاقوں میں ‘اسٹیٹ آف کیٹاسٹروفی’ (آفت زدہ حالت) کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد فوج کو ریسکیو آپریشنز میں شامل کر لیا گیا ہے اور ہنگامی فنڈز کی فراہمی تیز کر دی گئی ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے اتوار کی شام تک مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے خطرات میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
یہ سیلاب چلی میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برسوں کی خشک سالی کے بعد، اب ملک کو ‘ایٹموسفیرک ریورز’ (فضا میں موجود آبی بخارات کی ندیوں) کی صورت میں اچانک شدید بارشوں کا سامنا ہے، جن کے لیے موجودہ شہری منصوبہ بندی ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ سول انجینئرز کا کہنا ہے کہ شہروں کا نکاسی نظام ایک ماہ کی بارش کو 24 گھنٹوں میں برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
فی الحال ترجیح صرف ان لوگوں کی جان بچانا ہے جو پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد گھروں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو چکی ہے، اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث عارضی پناہ گاہوں میں موجود متاثرین میں ٹھنڈ سے بچاؤ کے لیے انتظامات ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
ساحلی علاقوں میں بارش کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ہنگامی حالت تاحکمِ ثانی برقرار رہے گی، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ متاثرین کے لیے بحالی کا عمل ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
