سعودی حکومت نے ایک سال کی مدت کے حامل ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا کا اجرا کر دیا ہے، جس سے دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے بار بار سفر کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ سہل ہو گیا ہے۔ یہ پالیسی روایتی سنگل انٹری اجازت ناموں کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس کے تحت ویزا ہولڈر ایک سال کے دوران جتنی بار چاہیں مملکت میں داخل ہو سکتے ہیں۔
وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ اس اقدام کا مقصد زائرین کے لیے سفری رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق، ویزا کی میعاد کے دوران زائرین متعدد بار عمرہ کی سعادت حاصل کر سکیں گے، بشرطیکہ وہ داخلے کے موجودہ ضوابط پر پورا اترتے ہوں۔
بار بار سفر کرنے والوں کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ ماضی میں ہر انفرادی دورے کے لیے الگ سے ویزا حاصل کرنا ایک تھکا دینے والا اور مہنگا عمل تھا۔ اب اس طویل مدتی سہولت سے سعودی حکومت کو توقع ہے کہ زائرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا، خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی مذہبی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ مملکت کے دیگر سیاحتی مقامات کی سیر بھی کرنا چاہتے ہیں۔
وزارت نے واضح کیا ہے کہ ویزا کی یہ سہولت پاسپورٹ کی درستگی اور ہیلتھ انشورنس کی لازمی شرط ختم نہیں کرتی۔ زائرین کو اب بھی ‘نسک’ ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ میں حاضری کے لیے اپائنٹمنٹ بک کروانا ہوگی اور اپنے سفر کا شیڈول اسی پلیٹ فارم پر منظم کرنا ہوگا۔
یہ اقدام سعودی "ویژن 2030” کا حصہ ہے، جس کا ہدف سالانہ مذہبی سیاحوں کی تعداد کو 3 کروڑ تک پہنچانا ہے۔ ویزا کے حصول کے پیچیدہ عمل کو آسان بنا کر ریاض انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ زائرین صرف مکہ اور مدینہ تک محدود نہ رہیں بلکہ سعودی عرب کے ثقافتی و سیاحتی تنوع کو بھی قریب سے دیکھ سکیں۔
ماضی میں زائرین کی جانب سے بار بار ویزا فیس اور کاغذی کارروائی کی شکایات عام تھیں۔ نئی پالیسی نے ان خدشات کا براہ راست جواب دیا ہے، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ زائرین کی اس بڑھی ہوئی تعداد کے پیش نظر مقدس شہروں کا انفراسٹرکچر کس حد تک دباؤ برداشت کر پاتا ہے۔
سعودی وزارت کی جانب سے جاری پیغام سادہ اور واضح ہے: مملکت کے دروازے زائرین کے لیے کھلے ہیں، اور جو لوگ بار بار آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے لیے سفری دستاویزات کی پریشانی اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔
