مستونگ — بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسافر گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں علاج کی غرض سے کراچی جانے والی ایک خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
واقعہ کھڈ کوچہ کے قریب قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ پولیس اور لیویز حکام کے مطابق حملہ آوروں نے گاڑی کو روکا اور فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ حملے میں دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے مستونگ کے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں انہیں تشویشناک حالت میں کوئٹہ ریفر کر دیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں لیویز حکام اسے ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دے رہے ہیں، تاہم حملے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔ کسی بھی کالعدم تنظیم یا گروہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔
کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس اہم تجارتی اور سفری راستے پر پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ طویل عرصے سے اس روٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لیویز کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ "علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح حملہ آوروں کا سراغ لگانا ہے۔”
مستونگ کے مقامی حلقوں نے اس سفاکانہ واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ منگل کی شام تک شاہراہ پر ٹریفک جزوی طور پر بحال رہی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ارد گرد کے پہاڑی علاقوں میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔
مقتولہ کی میت قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ شاہراہوں پر سفر کرنے والے عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کب کیے جائیں گے؟
