لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے منگل کے روز پوڈکاسٹ میزبان ریحان طارق کی توہینِ مذہب کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد ریحان طارق کی کئی ہفتوں پر محیط قید کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ارشد جاوید نے ریحان طارق کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران دفاعی وکلاء نے استدلال کیا کہ استغاثہ ایسی ٹھوس شہادت پیش کرنے میں ناکام رہا جو ملزم کے آن لائن تبصروں کو پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت توہینِ مذہب کے زمرے میں لانے کے لیے کافی ہو۔
ریحان طارق کو گزشتہ ماہ ان کے پوڈکاسٹ کی ایک وائرل کلپ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری نے سوشل میڈیا پر ایک تند و تیز بحث کو جنم دیا تھا، جہاں قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ڈیجیٹل مواد پر قدغن لگانے کے لیے توہینِ مذہب کے قوانین کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
عدالت میں استغاثہ کا موقف تھا کہ پوڈکاسٹ میں کی گئی گفتگو سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ تاہم، ریحان طارق کے وکیل نے جواب دیا کہ ان کے موکل کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور پوڈکاسٹ میزبان نے پروگرام کے فوراً بعد اپنی وضاحت بھی جاری کر دی تھی۔
یہ عدالتی فیصلہ ان ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کے لیے ایک ریلیف ہے جو اس کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ گرفتاری پاکستان میں آزاد مواد تخلیق کرنے والوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا ایک حصہ ہے۔
عدالت نے ریحان طارق کو ضمانت دیتے ہوئے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ وہ ٹرائل کے دوران ایسے کسی مواد کی تشہیر سے گریز کریں گے جو قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکے۔ قانونی دستاویزات کی تکمیل کے بعد ریحان طارق کی آج شام کیمپ جیل سے رہائی متوقع ہے۔
آیا یہ فیصلہ دیگر آن لائن تخلیق کاروں کے لیے ایک نظیر بنے گا یا نہیں، یہ سوال لاہور کے قانونی حلقوں میں موضوعِ بحث ہے۔ فی الحال، یہ کیس حراست سے نکل کر ماتحت عدالتوں میں ایک طویل قانونی جنگ کی جانب بڑھ گیا ہے۔
