پاکستان نے اپنے سکڑتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی’ کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔ منگل کی شب سامنے آنے والی یہ پیش رفت اس گہرے معاشی بحران کا نتیجہ ہے جس نے قومی خزانے کو خالی کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد پہلے سے موجود آئی ایم ایف پروگرام کی کڑی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ وزارتِ خزانہ کے حکام — جو بڑھتے ہوئے قرضوں اور ریکارڈ مہنگائی کے دباؤ میں ہیں — اس امید پر ہیں کہ امریکی محکمہ خزانہ یا تو ضامن بنے گا یا براہِ راست لیکویڈیٹی فراہم کرے گا۔
عام پاکستانی کے لیے اس کے نتائج فوری نوعیت کے ہیں۔ مرکزی بینک کے ذخائر دو ماہ کی درآمدات کے لیے درکار حد سے بھی نیچے گر چکے ہیں۔ اس سہولت کے بغیر حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو روپے کی قدر میں مزید کمی، جو مہنگائی کا نیا طوفان لائے گی، یا پھر بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کا خطرہ۔
معاشی ماہرین اس درخواست کو پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن سے براہِ راست مدد مانگ کر اسلام آباد نے یہ پیغام دیا ہے کہ کثیر الجہتی قرضے اب مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ اپنے داخلی بجٹ کے مسائل اور پاکستان کی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر اس خطیر رقم کی فراہمی پر آمادہ ہوتی ہے یا نہیں، یہ سب سے بڑا سوال ہے۔
یہ اقدام اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور امریکی ہم منصبوں کے درمیان ہفتوں جاری رہنے والی خاموش بات چیت کا نتیجہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ایک "بفر” کے طور پر کام کرے گی، جس سے حکومت کو آئی ایم ایف کی مطلوبہ اصلاحات نافذ کرنے کے لیے کچھ وقت مل سکے گا۔
تاہم، منظوری کی راہ میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ واشنگٹن روایتی طور پر ایسی مالی امداد کو گورننس کے مخصوص معیارات سے مشروط رکھتا ہے، جن میں قرضوں کی رپورٹنگ میں شفافیت اور ٹیکس اصلاحات شامل ہیں۔ اگر امریکی حکومت اس پر آگے بڑھتی ہے تو توقع ہے کہ وہ سخت نگرانی کا مطالبہ کرے گی، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسلام آباد کے مالی فیصلوں میں امریکی حکام کا عمل دخل بڑھ جائے گا۔
یہ درخواست ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے: پاکستان کا معاشی پہیہ جام ہو رہا ہے اور حکومت کے پاس غیر مشروط مدد کرنے والے اتحادی ختم ہو چکے ہیں۔ جب تک وزارتِ خزانہ کو امریکی محکمہ خزانہ سے جواب نہیں ملتا، ملک کی کریڈٹ ریٹنگ شدید دباؤ میں رہے گی اور مارکیٹ پہلے ہی مزید معاشی ہلچل کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔
