پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کے روز ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ ہے۔
ملکی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 2,400 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 64 ہزار 200 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کے نرخ 2,058 روپے اضافے سے 2 لاکھ 26 ہزار 508 روپے ہو گئے۔ سرمایہ کاروں کا رجحان ایک بار پھر محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھ رہا ہے کیونکہ معاشی غیر یقینی صورتحال میں سونا سب سے مستحکم سہارا سمجھا جاتا ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 2,420 ڈالر فی اونس تک پہنچ چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ دنیا بھر میں شرح سود میں ممکنہ کمی کے بارے میں بدلتے ہوئے اندازے ہیں۔ تاہم پاکستانی صارفین پر اس کا اثر دوہرا ہے؛ ایک تو عالمی قیمتوں کا دباؤ اور دوسرا روپے کی گرتی ہوئی قدر۔ جب ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کمزور ہوتا ہے تو سونے کی درآمدی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے باعث مقامی جیولرز کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔
کراچی کے ایک سینئر بلین ڈیلر کے مطابق، "یہ صارفین کے لیے دہرا نقصان ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں قیمت بڑھتی ہے تو مقامی سطح پر ڈالر کی قیمت اسے مزید مہنگا کر دیتی ہے، جس سے ایک ہی صبح میں قیمتوں میں ہزاروں روپے کا فرق آ جاتا ہے۔”
قیمتوں میں اس اضافے کے باوجود بازاروں میں خریداروں کا رش نہ ہونے کے برابر ہے۔ شادی بیاہ کے سیزن کے باوجود بہت سے گھرانے خریداری مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ موجودہ نرخ عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک روپے کی قدر مستحکم نہیں ہوتی، سونے کی قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔
اگرچہ سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ قیمتیں مقامی خریداروں کے لیے امتحان بن چکی ہیں۔ عالمی منڈی میں مندی کے آثار نہ ہونے اور روپے کی بحالی میں تاخیر کے باعث، صرافہ بازار میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
