سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات ہونے والے وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران صحافیوں اور میڈیا اداروں پر کڑی تنقید کی۔ واشنگٹن ہلٹن میں جاری اس تقریب کے دوران ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ کا رخ کیا اور اسے "جعلی میڈیا” کا ایک "کرپٹ” اجتماع قرار دے دیا۔
تقریب میں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات کا تانتا بندھا ہوا تھا، لیکن ٹرمپ نے ایک کے بعد ایک پوسٹس کے ذریعے اس تقریب کو "مکمل دھوکہ” قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ صحافی اور سیاسی اشرافیہ کا یہ میل ملاپ غیر اخلاقی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میڈیا کو عوامی مسائل کے بجائے اپنی محفلیں سجانے میں دلچسپی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں اس تقریب میں شرکت سے گریز کیا تھا، اور اب بھی ان کا رویہ وہی رہا۔ انہوں نے تقریب میں موجود مزاحیہ فنکاروں اور میڈیا کی روایات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب صحافتی غیر جانبداری کے دعووں کی نفی کرتی ہے۔
ٹرمپ نے لکھا، "جعلی خبریں پھیلانے والا میڈیا پھر سے سرگرم ہے،” اور تقریب کو ایلیٹ کلاس کا ایک خود ساختہ تماشا قرار دیا۔ ان کے نزدیک یہ تقریب اس تعصب کو اجاگر کرتی ہے جو ان کے بقول مرکزی دھارے کے میڈیا کا خاصہ ہے۔
اس سال تقریب میں مزاحیہ فنکار رائے وڈ جونیئر نے معیشت سے لے کر واشنگٹن میں جاری اسکینڈلز تک پر طنز کیا، مگر ٹرمپ کا ردعمل پیش گوئی کے عین مطابق تھا۔ انہوں نے مزاح کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے اپنے حامیوں کے لیے ایک سیاسی پیغام کے طور پر استعمال کیا، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ میڈیا اب بھی ان کا سب سے بڑا سیاسی حریف ہے۔
واشنگٹن کے بال روم میں ہونے والی یہ تقریب جہاں پریس کی آزادی اور جمہوریت میں اس کے کردار کے جشن کے طور پر منائی گئی، وہیں ٹرمپ نے اسے 2024 کے انتخابی مہم کے تناظر میں اپنے بیانیے کو مزید تیز کرنے کے لیے استعمال کیا۔
وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے لیے یہ رات پیشہ ورانہ وقار اور ہلکے پھلکے انداز میں گزرنے کا نام تھی، لیکن ٹرمپ کے لیے یہ ان اداروں کے خلاف جاری جنگ کا ایک اور محاذ ہے جنہیں وہ اپنی تحریک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
رات کے اختتام پر دو مختلف دنیاؤں کا منظر واضح تھا: ایک طرف پریس کی آزادی کا جشن تھا، اور دوسری جانب اس کی ساکھ کو گرانے کی منظم کوشش۔
