دہلی پریس کلب کے باہر منگل کو اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب احتجاج کرنے والے مظاہرین نے مین اسٹریم ٹی وی چینلز کی ٹیموں پر کاکروچ چھوڑ دیے۔ براہِ راست نشریات کے دوران پیش آنے والے اس واقعے نے صحافیوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
مظاہرین نے ٹی وی عملے کے کیمروں، ٹرائی پوڈز اور مائیکروفونز پر کاکروچ سے بھرے تھیلے انڈیل دیے۔ اس دوران مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے ان چینلز کو "گوڈی میڈیا” کا طعنہ دیا—یہ اصطلاح ان میڈیا اداروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جن پر حکومتی ترجمانی کرنے اور غیر جانبدارانہ صحافت ترک کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
سیکیورٹی اہلکاروں اور پولیس نے مداخلت کر کے مظاہرین کو وہاں سے ہٹایا، جس کے باعث تقریباً بیس منٹ تک نشریات تعطل کا شکار رہیں۔ واقعے میں کسی کو جسمانی چوٹ تو نہیں آئی، لیکن میڈیا ٹیمیں شدید ہزیمت کا شکار ہوئیں۔
بھارت میں "گوڈی میڈیا” کی اصطلاح اس بڑھتی ہوئی خلیج کی عکاس ہے جو عوام اور بڑے نیوز نیٹ ورکس کے درمیان پیدا ہو چکی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ چینلز عوامی مسائل، معاشی بدحالی اور سول حقوق کے بجائے حکومتی بیانیے کو فروغ دینے اور معاشرتی تقسیم کو ہوا دینے والے موضوعات کو ترجیح دیتے ہیں۔
فیلڈ میں موجود صحافیوں کے لیے یہ واقعہ ایک نئے خطرے کی علامت ہے۔ ٹی وی رپورٹرز کو عوامی مقامات پر اکثر تلخ کلامی اور نعرے بازی کا سامنا تو رہتا ہے، لیکن کاکروچ کا استعمال ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا گیا تاکہ کیمرے کے سامنے ان کی تذلیل کی جا سکے۔
پریس کلب آف انڈیا کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم میڈیا یونینز نے فیلڈ رپورٹرز کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان میڈیا نیٹ ورکس کے لیے یہ صرف نشریات کی بندش کا معاملہ نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز پر عوام کی جانب سے ہمدردی کے بجائے طنزیہ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے رہا ہے کہ کیا مین اسٹریم میڈیا اپنی ساکھ کھو چکا ہے، یا پھر یہ رپورٹرز اب خود خبر کا حصہ بن چکے ہیں؟
