واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ قومی سلامتی کے مشیروں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینے سے فی الحال گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق مشیروں نے خبردار کیا کہ جنگ میں مزید شدت پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع علاقائی تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے اور امریکی فوجی وسائل پر بھی اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں ایران کے خلاف ممکنہ مزید فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں پر غور کیا گیا، تاہم امریکی فوجی حکام نے فضائی دفاعی نظام، خصوصاً پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خطے میں امریکی افواج کی سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ مشیروں کا کہنا تھا کہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی سے امریکہ کی دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز بدستور موجود ہیں اور اگر امریکی مفادات یا اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہوا تو مزید کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ تاہم موجودہ حالات میں امریکی انتظامیہ سفارتی کوششوں کو موقع دینے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں بلکہ ایک عارضی توقف ہے۔
ادھر علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی سلامتی، بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے مختلف اقدامات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
اگرچہ امریکہ نے فی الحال بڑے فوجی حملوں سے گریز کیا ہے، لیکن خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بدستور نازک ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ مختلف علاقوں میں امریکی اتحادیوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ امریکی اور اتحادی افواج بھی خلیجی خطے میں ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی غلط اندازے یا بڑے حملے کی صورت میں موجودہ سفارتی کوششیں ناکام ہو سکتی ہیں اور جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند دن انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ یہی طے کریں گے کہ سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا امریکہ اور ایران ایک بار پھر وسیع فوجی تصادم کی طرف بڑھتے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر جنگ کے پھیلنے کا خطرہ کچھ کم ہوا ہے، تاہم دونوں ممالک اپنی فوجی تیاری برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث پورا خطہ اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
