اسلام آباد، 26 جولائی: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے موقع پر کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں وسطی ایشیائی ممالک اور بیلاروس کے اعلیٰ رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، روابط (کنیکٹیویٹی) اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے قازقستان کے وزیر خارجہ یرمیک کوشربایف سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ قازق وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی، جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون، تجارتی روابط اور علاقائی رابطہ کاری کو وسعت دینے پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
تاجکستان کے وزیر خارجہ سراج الدین محرالدین سے ملاقات میں تجارت، توانائی، علاقائی سلامتی، ٹرانسپورٹ اور کنیکٹیویٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم بنانے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار نے بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریژینکوف سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارت، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں سے پاکستان کے وسطی ایشیائی ممالک اور بیلاروس کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، اقتصادی تعاون، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی روابط کے فروغ کے لیے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
