باجوڑ — خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں منگل کے روز ڈیم کی تعمیراتی سائٹ کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔
مقامی پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب تعمیراتی سامان لے جانے والا ٹرک ڈیم کی جانب جا رہا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔ واقعے کے بعد تعمیراتی کام فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔
امدادی ٹیموں نے دھماکے کے فوراً بعد ملبے سے دو لاشیں نکالیں۔ زخمی ہونے والے تین افراد کو فوری طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حال ہی میں اس خطے میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع باجوڑ سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس علاقہ ہے۔ ڈیم جیسے منصوبے مقامی سطح پر پانی اور آبپاشی کے مسائل حل کرنے کے لیے شروع کیے گئے تھے، لیکن اب یہ عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔
حکام نے تاحال ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے، لواحقین کو مطلع کرنے کا عمل جاری ہے۔ سکیورٹی حکام جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں اور قریبی دیہات کے رہائشیوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور پولیس ہر پہلو سے معاملے کو دیکھ رہی ہے، بشمول ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے استعمال کے امکانات۔ باجوڑ کے عوام کے لیے یہ دھماکہ اس غیر یقینی صورتحال کی یاد دہانی ہے جو علاقے میں معاشی استحکام کی کوششوں پر مسلسل سایہ فگن ہے۔
