وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ خاموشی سے دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جس سے ملک میں مہینوں سے جاری سیاسی کشیدگی میں نرمی کی ایک ہلکی سی امید پیدا ہوئی ہے۔
مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر رسمی مواصلاتی رابطے گزشتہ ہفتے کے آخر میں بحال ہوئے۔ یہ باقاعدہ مذاکرات نہیں، بلکہ ابتدائی نوعیت کی بات چیت ہے جس کا مقصد انتخابی اصلاحات اور آئینی بحران جیسے پیچیدہ معاملات پر کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنا ہے۔
یہ پیش رفت دونوں جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آئی ہے۔ موجودہ حکومت معاشی استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے اور اسے اپنی قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں سکون درکار ہے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، جس کی قیادت قانونی مقدمات کا سامنا کر رہی ہے اور بانی چیئرمین عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ کوئی بڑی کامیابی تو نہیں، لیکن ایک شروعات ضرور ہے۔ دونوں فریقین سمجھ چکے ہیں کہ تصادم کی موجودہ راہ بند گلی کی طرف جاتی ہے۔ حکومت سڑکوں پر جاری ہنگامہ آرائی کے ساتھ مؤثر حکمرانی نہیں کر سکتی، اور پی ٹی آئی بھی کسی ٹھوس سیاسی لائحہ عمل کے بغیر طویل عرصے تک دباؤ برقرار نہیں رکھ سکتی۔”
تنازع کی بنیادی وجہ 8 فروری کے انتخابات کی شفافیت ہے۔ پی ٹی آئی قیادت مخصوص حلقوں میں انتخابی نتائج کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کر رہی ہے، جسے حکمران اتحاد مسترد کر چکا ہے۔ اس کے برعکس، حکومت معاشی پالیسیوں پر سیاسی اتفاق رائے چاہتی ہے تاکہ وہ تلخ بیانیے کو کم کر سکے جس نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تاحال تذبذب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
پسِ پردہ رابطوں کے باوجود، عوامی سطح پر بیانات تاحال جارحانہ ہیں۔ حکومتی وزراء پی ٹی آئی پر "معاشی سبوتاژ” کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کے رہنما "چوری شدہ مینڈیٹ” کا بیانیہ دہراتے ہیں۔ پاکستانی سیاست کی یہ پرانی روایت ہے کہ نجی سطح پر مذاکرات اور عوامی سطح پر محاذ آرائی ساتھ ساتھ چلتی ہے، جہاں سمجھوتے کو اکثر کمزوری سمجھا جاتا ہے۔
ان رابطوں کی کامیابی کا انحصار اعتماد کی ایک انتہائی تنگ کھڑکی پر ہے۔ ماضی میں مفاہمت کی کوششیں اس وقت ناکام ہوئیں جب دونوں جانب سے تفصیلات میڈیا کو لیک کر دی گئیں تاکہ اپنے حامیوں کو خوش کیا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ موجودہ کوشش دونوں جماعتوں کے سخت گیر حلقوں کے دباؤ کو برداشت کر پائے گی یا نہیں۔
فی الحال یہ بات چیت صرف چند بااعتماد افراد تک محدود ہے۔ اگر یہ فریقین "کولنگ آف” مدت کے لیے کسی فریم ورک پر متفق ہو جاتے ہیں، تو ملک میں گزشتہ ایک سال سے جاری احتجاجی سیاست میں کچھ ٹھہراؤ آ سکتا ہے۔ بصورت دیگر، بجٹ سیشن کی آمد کے ساتھ ہی گرفتاریوں اور جوابی الزامات کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
