وزارت داخلہ نے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی گرفتاری میں مددگار معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کی رات جاری ہونے والے اس حکومتی فیصلے کا مقصد ملک بھر میں سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس کی کمر توڑنا ہے۔ یہ قدم حالیہ عرصے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور اہم تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تشدد کے بڑھتے واقعات نے ریاستی اداروں کو حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ان علاقوں میں عسکریت پسند گروپوں کی موجودگی نے سیکیورٹی فورسز کے لیے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ حکومت اب براہِ راست آپریشنز کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر خفیہ معلومات کے حصول کے لیے عوامی تعاون کی متلاشی ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اب ہم صرف روایتی آپریشنز پر انحصار نہیں کر سکتے۔ ہمیں عوام کو اپنی آنکھیں اور کان بنانا ہوگا۔ ریاست نتائج کے حصول کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔”
وزارت داخلہ نے آپریشنل سیکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے مطلوب دہشت گردوں کی مکمل فہرست تاحال عام نہیں کی ہے۔ تاہم، انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف بنیادی طور پر ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کے اہم کمانڈرز ہیں۔ یہ افراد اکثر سرحد پار نقل و حمل اور مقامی آبادی میں چھپ کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دینے میں کامیاب رہتے ہیں۔
ملکی معاشی بحران نے سیکیورٹی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ محدود بجٹ کے باعث حکومت بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کے بجائے مخصوص اہداف کو نشانل بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، جس کے لیے انعام کی یہ رقم مختص کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں انعامی رقوم کے نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ اکثر اوقات غلط معلومات یا ذاتی دشمنیوں کی بنیاد پر بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان کا دعویٰ ہے کہ اس بار مخبروں کی جانچ پڑتال کے لیے ایک سخت نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ رقوم کا غلط استعمال نہ ہو اور صرف ٹھوس معلومات پر ہی ادائیگی کی جائے۔
کیا یہ اقدام دہشت گردی کی حالیہ لہر کو روک پائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر سیکیورٹی ماہرین منقسم ہیں۔ متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کے لیے یہ اعلان اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ریاست روایتی ذرائع سے مکمل امن قائم کرنے میں تاحال مشکلات کا شکار ہے۔
وزیر داخلہ جمعہ کو ایک پریس بریفنگ میں اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ تاہم سرکاری ذرائع کا اشارہ ہے کہ اگر موجودہ حکمت عملی سے رواں سہ ماہی کے اختتام تک اہم گرفتاریاں عمل میں نہ آئیں، تو انعام کی رقم میں مزید اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
