امفال میں طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے 47 سے فائرنگ کرنے پر منی پور پولیس کے ایک سب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا جب طلبہ کا ایک بڑا ہجوم ریاستی گورنر ہاؤس (راج بھون) کی جانب مارچ کر رہا تھا۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریاستی فورس کا ایک افسر نہتے طلبہ کی جانب رائفل تانے کھڑا ہے اور پھر فائرنگ کرتا ہے۔ یہ منظر ایک ایسے خطے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے جو پہلے ہی ایک سال سے زائد عرصے سے نسلی فسادات کی لپیٹ میں ہے۔
طلبہ کا مطالبہ تھا کہ ریاستی پولیس کے سربراہ اور سیکیورٹی ایڈوائزر کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔ مظاہرین چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی کا کنٹرول وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہیے۔ لیکن اس مذاکراتی مطالبے کے جواب میں سیکیورٹی فورسز نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔
پولیس حکام نے ایک مختصر اندرونی حکم نامے میں اس افسر کی معطلی کی تصدیق کی اور اس کے عمل کو "غیر پیشہ ورانہ” اور "افسر کے شایانِ شان نہیں” قرار دیا۔ اب اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ایک خودکار جنگی ہتھیار کا استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔
اگرچہ حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس مخصوص فائرنگ سے کوئی ہلاکت ہوئی، تاہم امفال کے ہسپتالوں کے ریکارڈ کے مطابق 50 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر زخمی آنسو گیس اور پیلٹ گن کے گولوں کا شکار ہوئے، لیکن ایک اے کے 47 کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیسنگ اور جنگی کارروائی کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔
اس واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ منی پور کے نوجوانوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کی آخری لہر بھی ٹوٹ چکی ہے۔ طلبہ پر خودکار رائفلیں چلانا محض ایک غلطی نہیں، بلکہ حکومتی رٹ کے عسکری انداز کو ظاہر کرتا ہے۔
افسر کی معطلی سے عوامی غصے میں عارضی ٹھہراؤ تو آ سکتا ہے، مگر یہ طلبہ کے بنیادی مطالبات کا جواب نہیں ہے۔ فی الحال امفال کی سڑکیں بھاری سیکیورٹی حصار میں ہیں اور شہر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، اس اے کے 47 کی گونج آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے کو مزید تلخ بنائے گی۔
