پشاور ہائی کورٹ نے ’قائد اعظم‘ نامی ایک پاکستانی شہری کی ملک بدری کے اقدام کو روک دیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ شہری کو فوری طور پر ملک بدر نہ کیا جائے اور اسے اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے نادرا کے اسکروٹنی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کا موقع دیا جائے۔
جسٹس شکیل احمد نے منگل کے روز کیس کی سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ حکام کو درخواست گزار کی ملک بدری سے روک دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار نادرا کے اسکروٹنی بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنے دستاویزات اور شہریت کے معاملے کو حل کرے۔
پشاور کا رہائشی یہ شہری برسوں سے ایک پیچیدہ قانونی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ حکام نے اس کی شہریت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے دستاویزات کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے بعد اسے ملک بدر کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ دلچسپ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس نام (قائد اعظم) کی نسبت سے وہ خود کو اس ملک کا حصہ سمجھتا ہے، وہی نام اس کی شناخت کے بحران میں ایک علامت بن چکا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ کسی بھی شخص کو بغیر ٹھوس ثبوت کے اس ملک سے نکالنا جہاں وہ برسوں سے مقیم ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری ریکارڈ میں تصدیقی مسائل کا خمیازہ شہری کو ملک بدری کی صورت میں بھگتنا نہیں چاہیے۔
دوسری جانب نادرا کا موقف ہے کہ درخواست گزار کا بائیو میٹرک اور رجسٹریشن ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کے لیے درکار معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اس تکنیکی تعطل نے اسے اپنے ہی شہر میں ایک غیر ملکی کی حیثیت دے رکھی ہے۔
عدالت کے اس حکم کے بعد اب گیند نادرا کے اسکروٹنی بورڈ کی کورٹ میں ہے۔ بورڈ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات اسے پاکستانی شہری تسلیم کرنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔
عدالت نے اگرچہ فی الحال ملک بدری پر روک لگا کر اسے ایک عارضی ریلیف فراہم کر دیا ہے، لیکن درخواست گزار کی قانونی حیثیت تاحال غیر واضح ہے۔ نادرا بورڈ کے سامنے پیشی ہی یہ طے کرے گی کہ آیا وہ اپنے آبائی شہر میں رہ سکے گا یا اسے اس ملک سے نکال دیا جائے گا جس کے بانی کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے۔
