میازاکی، جاپان — جاپان کے جزیرے کیوشو کے ساحل پر جمعرات کو 7.1 شدت کے شدید زلزلے نے تباہی مچائی، جس کے بعد حکام نے سونامی کی وارننگ جاری کر دی۔ زلزلے کے جھٹکوں نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا اور ساحلی علاقوں میں شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی کے مطابق زلزلے کا مرکز ہیوگا-نادا سمندر میں تقریباً 30 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ میازاکی اور گردونواح کے علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ عمارتیں لرز اٹھیں، کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور گھروں میں سامان گر گیا۔
ساحلی علاقوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمندری لہروں کا بڑھنا ہے۔ حکام نے کیوشو اور شیکوکو کے ساحلوں پر ایک میٹر تک بلند لہروں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر، جاپان ریلویز نے خطے میں شنکانسین بلٹ ٹرینوں کی سروس فوری طور پر معطل کر دی ہے، جس سے ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ انجینئرز کی ٹیمیں اب پٹریوں اور بنیادی ڈھانچے کے معائنے میں مصروف ہیں۔
یہ زلزلہ ماہرین کے لیے اس لیے تشویشناک ہے کیونکہ یہ ‘نانکائی ٹرف’ کے قریب واقع ہے۔ یہ زمین کے اندر ایک ایسی فالٹ لائن ہے جو شیزوکا سے کیوشو تک پھیلی ہوئی ہے۔ ماہرینِ ارضیات طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ اس ٹرف میں کسی بھی بڑے ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ایک بہت بڑا "میگا تھرسٹ” زلزلہ آ سکتا ہے جو پورے جاپان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹوکیو میں ایک مختصر پریس بریفنگ کے دوران حکومتی ترجمان نے کہا کہ "ہم اس وقت جوہری تنصیبات سمیت اہم انفراسٹرکچر کی جانچ کر رہے ہیں۔” کیوشو الیکٹرک پاور کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ سینڈائی نیوکلیئر پلانٹ میں فی الحال کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے، تاہم پلانٹ کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے کچھ افراد کے زخمی ہونے کی خبریں ملی ہیں، تاہم کسی ہلاکت کی فوری تصدیق نہیں ہوئی۔ ریسکیو ٹیمیں ساحلی قصبوں میں گھر گھر جا کر معمر شہریوں کی خیریت معلوم کر رہی ہیں جو سائرن بجنے کے بعد فوری انخلا میں مشکلات کا شکار تھے۔
جاپان کے لیے زلزلے معمول کی بات ہیں، لیکن اس واقعے نے عوام میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ حکومت کی زلزلہ ریسرچ کمیٹی آج ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ زلزلہ کسی بڑے آنے والے زلزلے کا پیش خیمہ ہے یا یہ ایک الگ واقعہ ہے۔
فی الحال موسمیاتی ایجنسی کا پیغام واضح ہے: ساحل سے دور رہیں، کیونکہ آفٹر شاکس (زلزلے کے بعد کے جھٹکوں) کا خطرہ بدستور موجود ہے اور حکام کسی بھی قسم کا رسک لینے کو تیار نہیں ہیں۔
