پاکستان بھر میں نجی اور سرکاری اسکولوں کی انتظامیہ موسم گرما کی تعطیلات کے خاتمے سے قبل ہی غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔ صوبائی حکومتیں ایک طرف تعلیمی کیلنڈر مکمل کرنے کے دباؤ میں ہیں تو دوسری طرف شدید گرمی اور موسمیاتی خطرات والدین اور اساتذہ کے لیے بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
تعلیمی سال کا دورانیہ پہلے ہی شدید گرمی کی لہر اور حالیہ انتخابات کی وجہ سے متاثر ہو چکا ہے۔ محکمہ تعلیم کے حکام کا ماننا ہے کہ اگر تعلیمی دنوں کا ضیاع پورا نہ کیا گیا تو نصاب کی تکمیل ممکن نہیں رہے گی۔ پنجاب کے محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمیں تین ہفتوں کا تعلیمی نقصان ہوا ہے۔ اگر یہ وقت کور نہ کیا گیا تو امتحانات کے معیار پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا، اور یہ ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔”
دوسری جانب، والدین اس فیصلے پر تحفظات کا شکار ہیں۔ ملک کے کئی اضلاع میں ہیٹ انڈیکس اب بھی خطرے کی سطح پر ہے، جبکہ مون سون کی بارشوں نے انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ بہت سے والدین کا کہنا ہے کہ ایسے اسکولوں میں بچوں کو بھیجنا جہاں بجلی اور ہوا کا مناسب انتظام نہ ہو، بچوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔
اساتذہ کی تنظیمیں بھی حکومت کے ممکنہ فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت کو کیلنڈر کی جلدی کرنے کے بجائے اسکولوں کی عمارتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک صوبائی اساتذہ ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا، "اسکولوں کی عمارتیں تپتی ہوئی بھٹیوں کی طرح ہیں۔ آپ چالیس ڈگری درجہ حرارت میں پڑھائی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ چند دن پہلے اسکول کھولنے سے نصاب تو شاید پورا ہو جائے لیکن بچوں کی کارکردگی صفر ہو گی۔”
یہ صورتحال پاکستان کے تعلیمی شعبے کے دیرینہ مسئلے کو اجاگر کرتی ہے: انتظامی ضروریات اور طالب علموں کی فلاح کے درمیان توازن کا فقدان۔ اگر حکومت قبل از وقت اسکول کھولنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو خدشہ ہے کہ والدین بچوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کریں گے، جس سے حاضری کا تناسب بری طرح متاثر ہوگا۔
متوقع ہے کہ محکمہ تعلیم اس ہفتے کے آخر تک حتمی نوٹیفکیشن جاری کر دے گا۔ امکان یہی ہے کہ حکومت بڑے شہروں کے ان اسکولوں کو پہلے کھولنے کا فیصلہ کرے گی جہاں سہولیات قدرے بہتر ہیں، جبکہ دیہی علاقوں کے اسکولوں کے لیے اصل شیڈول برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ فیصلے کا حتمی اعلان جمعہ تک متوقع ہے، جس کے بعد اسکول انتظامیہ کے پاس تیاریوں کے لیے انتہائی محدود وقت بچے گا۔
