سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے اسپائنوسورس کے بارے میں اہم نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے اور منفرد شکاری ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے، اور تازہ تحقیق سے اس کے رہن سہن، شکار کرنے کے انداز اور ماحول سے مطابقت کے بارے میں بہتر سمجھ حاصل ہوئی ہے۔
ماہرینِ قدیم حیاتیات نے نئے دریافت ہونے والے فوسلز اور جدید تھری ڈی کمپیوٹر ماڈلز کا تجزیہ کرکے اسپائنوسورس کی جسمانی ساخت اور حرکت کا ازسرِ نو جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ڈائنوسار مکمل زمینی جانور نہیں تھا بلکہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دریاؤں، دلدلی علاقوں اور ساحلی ماحول میں گزارتا تھا، جہاں وہ شکار کی تلاش کرتا تھا۔
مشہور ٹی ریکس کے برعکس اسپائنوسورس کی لمبی مگرمچھ نما تھوتھنی اور مخروطی شکل کے مضبوط دانت اسے بڑی مچھلیاں پکڑنے کے لیے بہترین بناتے تھے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کی خوراک کا زیادہ تر حصہ مچھلیوں پر مشتمل تھا، تاہم یہ پانی کے کنارے رہنے والے دوسرے جانوروں اور بعض چھوٹے ڈائنوسارز کا بھی شکار کر سکتا تھا۔
اسپائنوسورس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی پشت پر موجود بادبان نما بڑی ساخت تھی، جو لمبی ریڑھ کی ہڈیوں سے بنی ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس بادبان کا مقصد ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن ممکنہ طور پر یہ جسمانی درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے، دوسرے اسپائنوسورس کو متاثر کرنے، اپنی شناخت ظاہر کرنے یا ملاپ کے دوران ساتھی کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
نئی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسپائنوسورس کی ہڈیاں نسبتاً زیادہ بھاری اور گھنی تھیں، جس سے اسے پانی میں متوازن رہنے میں مدد ملتی تھی، جبکہ اس کی طاقتور دم تیراکی کے دوران آگے بڑھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی تھی۔ یہ شواہد اس نظریے کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ اسپائنوسورس ان ابتدائی ڈائنوسارز میں شامل تھا جو پانی میں زندگی گزارنے کے لیے نمایاں طور پر ڈھل چکا تھا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ تحقیق نے اسپائنوسورس کے بارے میں کئی نئے حقائق سامنے لائے ہیں، لیکن اس کے شکار کرنے کے مکمل طریقۂ کار، خشکی اور پانی میں نقل و حرکت، اور مجموعی طرزِ زندگی سے متعلق کئی سوالات اب بھی تحقیق طلب ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہر نئی فوسل دریافت اسپائنوسورس سمیت قدیم ڈائنوسارز کے ارتقا اور زمین کے کروڑوں سال پرانے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور مستقبل کی تحقیقات سے اس عظیم شکاری کے مزید راز سامنے آنے کی امید ہے۔
