سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق نے چاند کے ارتقا کے بارے میں اہم نئی معلومات فراہم کی ہیں، جن سے زمین کے واحد قدرتی سیارچے کی تشکیل، ٹھنڈا ہونے کے عمل اور اربوں سال کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔
محققین نے چاند سے حاصل کیے گئے پتھروں کے نمونوں، خلائی مشنز کے مشاہدات اور جدید سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا۔ جدید کمپیوٹر ماڈلز اور کیمیائی تجزیوں کی مدد سے سائنسدانوں نے چاند کی ارتقائی تاریخ کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا، جس سے اس کی قدیم آتش فشانی سرگرمی اور اندرونی ساخت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔
تحقیق کے مطابق چاند تقریباً 4.5 ارب سال پہلے وجود میں آیا، غالب امکان ہے کہ یہ ابتدائی زمین اور مریخ کے حجم کے ایک فلکی جسم کے درمیان ہونے والے ایک عظیم تصادم کے نتیجے میں تشکیل پایا۔ اپنی ابتدائی حالت میں چاند ایک وسیع میگما اوشن سے ڈھکا ہوا تھا، جو وقت کے ساتھ ٹھنڈا ہو کر آج کی چاندی سطح میں تبدیل ہو گیا۔
سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ چاند پر آتش فشانی سرگرمی ممکنہ طور پر پہلے اندازوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ قدیم لاوے کے میدان اور آتش فشانی علاقوں سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند کے بعض حصے اپنی تشکیل کے بعد بھی کروڑوں برس تک ارضیاتی طور پر سرگرم رہے۔
تحقیق میں اربوں سال کے دوران سیارچوں اور شہابی پتھروں کے تصادم سے بننے والے بے شمار گڑھوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ گڑھے ابتدائی شمسی نظام کی تاریخ کا اہم ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں اور سائنسدانوں کو زمین اور چاند دونوں کے ماضی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
نتائج سے چاند کی اندرونی ساخت، جس میں اس کی قشر ، مینٹل اور چھوٹا دھاتی مرکز شامل ہے، کے بارے میں بھی بہتر معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ چاند وقت کے ساتھ کیسے ٹھنڈا ہوا اور آج اس پر وسیع پیمانے پر آتش فشانی سرگرمی کیوں موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی دریافتیں مستقبل کے روبوٹک اور انسانی قمری مشنز کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گی اور ایسے مقامات کی نشاندہی میں مدد کریں گی جہاں مزید سائنسی تحقیق کی جا سکے۔
سائنسدانوں کے مطابق چاند کے بارے میں ہر نئی دریافت نہ صرف اس کی اپنی تاریخ بلکہ زمین اور پورے شمسی نظام کے ابتدائی ارتقا کو سمجھنے کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو رہی ہے۔
