لاہور، 3 اگست 2026: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ حملے سے قبل عبداللہ طاہر کی نقل و حرکت پر ڈرون کے ذریعے نظر رکھی جا رہی تھی، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ نگرانی قتل کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔
پولیس نے مقدمے میں اب تک چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر قتل میں سہولت کاری کا الزام ہے، جبکہ مرکزی حملہ آور تاحال مفرور ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں تاکہ ملزمان کو گرفتار کر کے پورے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ وقوعے سے پہلے عبداللہ طاہر کی رہائش گاہ کے اطراف ڈرون کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر ڈرون کیمروں کے ذریعے پی ٹی آئی رہنما کی روزمرہ سرگرمیوں اور نقل و حرکت کی نگرانی کی، جس کی بنیاد پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
پولیس کے مطابق حملہ آور ایک کرائے کی گاڑی میں آئے تھے جس پر جعلی نمبر پلیٹیں لگائی گئی تھیں۔ واردات کے بعد انہوں نے گاڑی پر دوبارہ اصل نمبر پلیٹ لگا دی تاکہ تفتیشی اداروں کو گمراہ کیا جا سکے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گاڑی گوجرانوالہ سے کرائے پر حاصل کی گئی تھی۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ ارسلان جٹ نامی ملزم نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کو گوجرانوالہ سے لاہور پہنچایا۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم زمان عرف گوگی بٹ بیرونِ ملک موجود ہے، جس کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرانے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ مقدمے کی تفتیش لاہور کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے حوالے کر دی گئی ہے، جہاں ڈی ایس پی حسنین حیدر اس کیس کی نگرانی کریں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ قتل کی منصوبہ بندی، ڈرون نگرانی کے مبینہ استعمال اور اس سازش میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات تاحال جاری ہیں اور باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری، ڈرون نگرانی کے شواہد کی تصدیق اور قتل کے پس پردہ تمام حقائق سامنے لانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
