کراچی پولیس نے چہلمِ امام حسینؓ کے مرکزی جلوس کے لیے ٹریفک کا حتمی پلان جاری کر دیا ہے۔ شہر کے مرکزی اضلاع میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بند رکھا جائے گا، جس سے شہریوں کو معمول کی نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نمائش چورنگی سے ایم اے جناح روڈ تک جانے والے راستوں کو کل صبح سے ہی سیل کر دیا جائے گا۔ مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر کی حسینیان ایرانیان امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ اس دوران ٹریفک پولیس نے گاڑیوں کو متبادل راستوں—جن میں سولجر بازار، لسبیلہ اور شاہراہِ لیاقت شامل ہیں—پر موڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ٹریفک پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہماری اولین ترجیح جلوس میں شریک افراد کی حفاظت ہے۔ اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کا بہاؤ برقرار رہے، تاہم مضافاتی علاقوں میں شدید رش متوقع ہے۔”
انتظامیہ نے ہیوی ٹریفک اور کمرشل گاڑیوں کے شہر کے وسطی حصے میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اندرونِ شہر پھنسنے سے بچنے کے لیے لیاری ایکسپریس وے یا ناردرن بائی پاس کا استعمال کریں۔
عوامی سواریوں کے روٹس میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ شہر کے نواحی علاقوں سے آنے والی بسیں ‘ریڈ زون’ کے باہر مخصوص مقامات پر رکیں گی، جس کے بعد مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے پیدل سفر کرنا پڑے گا۔
جلوس کے روٹ پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے۔ سکیورٹی حصار کے اندر رہائش پذیر افراد کو چیک پوسٹس سے گزرنے کے لیے اپنا اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھنا لازمی ہوگا۔
یہ بندشیں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک مرکزی جلوس کھارادر میں اپنے اختتامی مقام تک نہیں پہنچ جاتا۔ اگر آپ کا شہر کے وسطی حصے میں جانا ناگزیر نہیں ہے، تو گھر پر رہنا ہی بہتر ہے؛ کیونکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ دن بھر برقرار رہنے کا امکان ہے۔
