وفاقی حکومت نے منگل کی شب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت دوبارہ 300 روپے کی نفسیاتی حد سے اوپر چلی گئی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب وزارت خزانہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالنے اور عالمی قرض دہندگان کی سخت شرائط پوری کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
5 اگست سے لاگو ہونے والی نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 8 روپے 20 پیسے اضافے کے بعد 304 روپے 50 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 312 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی نازک وقت پر سامنے آیا ہے۔ مہنگائی کا بوجھ پہلے ہی عوام کی کمر توڑ چکا ہے اور اب ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافے کا امکان ہے۔ اس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش اور خام مال کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک مختصر پریس کانفرنس کے دوران اس اضافے کو عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کا "ناگزیر نتیجہ” قرار دیا۔ انہوں نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے محصولات کی وصولی کو ضروری قرار دیا، تاہم کم آمدنی والے طبقے پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
آزاد ماہرینِ معاشیات اس وقت کو معاشی خودکشی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ بجلی کے بلوں میں پہلے ہی ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے اور اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کے لیے گنجائش ختم کر دی ہے۔
توانائی کے امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان احمد کہتے ہیں، "یہ صرف پٹرول پمپ کی قیمت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ سڑکوں پر چلنے والی ہر چیز کی لاگت کا مسئلہ ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو دودھ، سبزیوں اور تعمیراتی سامان کی قیمتیں 48 گھنٹوں کے اندر اوپر چلی جاتی ہیں۔”
حکومت کا موقف ہے کہ ایندھن کی سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے لیوی میں ردوبدل ضروری ہے، لیکن عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد اب حکومت کی توجہ ٹرانسپورٹ یونینز کے ممکنہ ردعمل کو سنبھالنے پر مرکوز ہے۔ فی الحال کسی قسم کی سبسڈی کے آثار نظر نہیں آ رہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں روزمرہ زندگی گزارنا مزید مہنگا ہو گیا ہے۔
