کراچی کی مرکزی شاہراہ، شاہراہِ فیصل پر آج شام چھ گاڑیوں کے درمیان ہونے والے ایک بڑے تصادم نے ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا، جس سے شہریوں کو گھنٹوں تک شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حادثہ نرسری کے قریب پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جبکہ شیشے بکھرے پڑے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں کوئی ہلاکت تو نہیں ہوئی، تاہم متعدد افراد معمولی زخمی ہوئے جنہیں موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک سلور رنگ کی سیڈان کو پبلک بس اور کمرشل وین کے درمیان پھنسا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب ایک تیز رفتار گاڑی نے اچانک لین تبدیل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں پیچھے آنے والی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔
ٹریفک پولیس حادثے کے تقریباً 40 منٹ بعد پہنچی، تاہم گاڑیوں کا رش ایئرپورٹ اور شہر کی جانب میلوں تک پھیل چکا تھا۔ معمول کا 20 منٹ کا سفر دو گھنٹے کی اذیت میں بدل گیا۔
ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ وہ ایف ٹی سی کے قریب ایک گھنٹے تک پھنسے رہے، "پوری سڑک پارکنگ لاٹ بن گئی تھی۔ ہر ہفتے یہی کہانی ہے—کوئی ایک شخص سڑک کو اپنی جاگیر سمجھ کر ڈرائیونگ کرتا ہے اور باقی سب اس کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔”
شاہراہِ فیصل کا یہ حصہ اکثر حادثات کے لیے بدنام ہے، جس کی بڑی وجہ ہیوی پبلک ٹرانسپورٹ اور پرائیویٹ گاڑیوں کی تیز رفتاری اور غیر محتاط لین کی تبدیلی ہے۔ شہر میں اسپیڈ کیمرے تو موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد اب بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
پولیس نے تاحال کسی بھی ڈرائیور کے خلاف حتمی مقدمہ درج نہیں کیا، اور ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ فی الحال شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، لیکن یہ واقعہ کراچی کے شہریوں کے اس دیرینہ غم و غصے کو دوبارہ تازہ کر گیا ہے کہ یہاں ایک چھوٹی سی لاپرواہی پورے شہر کو مفلوج کر سکتی ہے۔
