یاماناشی، جاپان — جاپان کے چیری بلاسم (ساکورا) کے باغات ایک سنگین بحران کی زد میں ہیں۔ جس صنعت پر جاپانی ثقافت کا دارومدار ہے، وہاں اب کام کرنے والے ہاتھوں کی کمی ہو رہی ہے۔ یاماناشی کے پہاڑی علاقوں میں کاشتکاروں کی اوسط عمر 70 برس سے تجاوز کر چکی ہے اور نئی نسل دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت کر رہی ہے۔
یہ محض افرادی قوت کی کمی نہیں، بلکہ ایک صدیوں پرانی روایت کے معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ باغات ویران ہو رہے ہیں اور درختوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔ اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹوکیو کی ٹیک کمپنیوں اور زرعی یونیورسٹیوں نے ایک نیا راستہ نکالا ہے: خودکار روبوٹس۔
یہ روبوٹس ناہموار اور ڈھلوان زمین پر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کام درختوں کی کانٹ چھانٹ، بیماریوں کی تشخیص اور مٹی کی نمی کا خیال رکھنا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صرف پیداوار بڑھانے کے لیے نہیں، بلکہ ان خاندانوں کے لیے ایک سہارا ہے جو اب جسمانی مشقت کے قابل نہیں رہے۔
78 سالہ کاشتکار ہیڈیو تناکا، جن کا خاندان کئی نسلوں سے ان باغات کی دیکھ بھال کر رہا ہے، کہتے ہیں، "میرا بیٹا 15 سال پہلے ٹوکیو چلا گیا تھا۔ میں اسے قصوروار نہیں ٹھہراتا، لیکن جب میری کمر جواب دے جائے گی تو ان کلیوں کو کون چنے گا؟ اب یہ مشینیں ہی واحد آپشن ہیں جو اس کام کو جاری رکھ سکتی ہیں۔”
یہ روبوٹس ‘لائی ڈار’ سینسرز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے درختوں کے کمزور حصوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم، یہ منتقلی اتنی آسان نہیں۔ ایک روبوٹ کی قیمت اور باغات کو ان کے مطابق ڈھالنے کا خرچ چھوٹے کسانوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ حکومتی سبسڈی کے باوجود، بہت سے کاشتکار اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے ہچکچا رہے ہیں۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ثقافتی نقصان بھی ہے۔ جاپانی کاشتکاری نسل در نسل منتقل ہونے والا ایک ہنر ہے، جہاں کسان کا تجربہ اور مشاہدہ سب سے اہم ہوتا ہے۔ روبوٹس کے آنے سے اس کام کا "انسانی لمس” ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ساکورا، جو جاپانی ثقافت میں خوبصورتی اور عارضی پن کی علامت ہے، اب صرف ایک صنعتی پراڈکٹ بن کر رہ جائے گا۔
فی الحال، یہ مشینیں ان باغات کو زندہ رکھنے کی ایک آخری کوشش معلوم ہوتی ہیں۔ کیا یہ روبوٹس جاپان کی زرعی روایت کو بچا پائیں گے یا یہ صرف ایک عارضی حل ہے؟ آنے والے چند سال اس سوال کا جواب دیں گے، جبکہ باغات میں اب پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ ساتھ برقی موٹروں کی گونج بھی سنائی دینے لگی ہے۔
