کیپٹن عاصم طارق قتل کیس میں استغاثہ نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا نہیں کی ہے، جس سے کیس کے تفتیشی مرحلے سے عدالتی کارروائی کی جانب منتقلی کا اشارہ ملتا ہے۔ عدالت میں ہونے والی تازہ ترین سماعت کے دوران سرکاری وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ کی ضرورت نہیں ہے۔
عدالت نے استغاثہ کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب پولیس ملزمان کو حراست میں رکھ کر براہِ راست تفتیش نہیں کر سکے گی۔
یہ پیش رفت اس کیس کے حوالے سے جاری شدید عوامی دباؤ کے درمیان سامنے آئی ہے۔ کیپٹن عاصم طارق کی ہلاکت کے بعد سے ہی تفتیشی اداروں پر ملزمان تک پہنچنے اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے سخت دباؤ تھا۔ پولیس کی جانب سے مزید ریمانڈ نہ مانگنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تفتیشی حکام اب تک کافی مواد اکٹھا کر چکے ہیں۔
دوسری جانب، دفاعی وکلاء کا کہنا ہے کہ ریمانڈ نہ مانگنا اس بات کا ثبوت ہے کہ استغاثہ کے پاس ملزمان کے خلاف حراستی تفتیش کے دوران کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا موقف ہے کہ اب کیس کا دارومدار صرف ان شواہد پر ہے جو پولیس نے پہلے ہی اکٹھے کر لیے ہیں، جنہیں وہ آئندہ سماعتوں میں عدالت میں چیلنج کریں گے۔
ملزمان کی جوڈیشل منتقلی کے بعد اب کیس کا مرکز پولیس کی تفتیش سے ہٹ کر عدالت میں چالان پیش کرنے پر منتقل ہو گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اب تفتیشی ٹیم اپنی حتمی رپورٹ یعنی ‘چالان’ تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرے گی، جس کے بعد باقاعدہ فردِ جرم عائد کرنے کا عمل شروع ہوگا۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت رواں ماہ کے آخر میں مقرر کی ہے۔ کیپٹن عاصم طارق کے لواحقین کے لیے یہ پیش رفت عدالتی عمل کا ایک تکنیکی حصہ ہے، تاہم اصل قانونی جنگ اب شروع ہوگی۔
استغاثہ کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یا تو وہ اپنے پاس موجود شواہد پر مطمئن ہیں یا پھر حراستی پوچھ گچھ سے مزید کچھ حاصل ہونے کی امید ختم ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت میں پیش کیا جانے والا چالان ان الزامات کو ثابت کرنے میں کتنا کامیاب رہتا ہے۔
