صدر آصف علی زرداری نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کی باضابطہ حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق، یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں سیکیورٹی تعاون کو نئی جہت دے گا بلکہ بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کو بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، مشترکہ فوجی مشقیں اور دہشت گردی کے خلاف مربوط حکمت عملی تشکیل دینا ہے۔ ماہرینِ دفاع کے مطابق، یہ پیش رفت اسلام آباد کی اس دیرینہ خواہش کا عملی اظہار ہے جس کے تحت وہ خطے کے اپنے روایتی حلیفوں کے ساتھ سیکیورٹی کے شعبے میں زیادہ گہرے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔
صدر زرداری نے بدھ کے روز ایوانِ صدر میں ہونے والی ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ "پاکستان اور سعودی عرب کے سیکیورٹی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ محض ایک فوجی دستاویز نہیں، بلکہ ان بڑھتے ہوئے خطرات کا جواب ہے جو کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں۔
معاہدے کی ٹائمنگ انتہائی اہم ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اسلام آباد اور ریاض ایک متحد محاذ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات ابھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں، تاہم سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا یہ اقدام پاکستان کی ایران کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی پالیسی پر اثر انداز ہوگا یا نہیں۔
پاکستانی عسکری قیادت اس معاہدے کے پس پردہ مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ راولپنڈی میں تعینات حکام نے گزشتہ کئی ماہ سے دونوں ممالک کی دفاعی ضروریات کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کام کیا ہے، جسے اب صدارتی سطح پر سیاسی توثیق بھی مل گئی ہے۔
حکومت اسے قومی سلامتی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے، تاہم پارلیمان میں اس معاہدے کے عملی پہلوؤں اور فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صدر زرداری کے اس فیصلے نے پاکستان کو ایک ایسی دفاعی وابستگی میں باندھ دیا ہے جس کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک ملک کی خارجہ پالیسی پر نمایاں رہیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر پائے گا یا یہ صرف موجودہ دفاعی تعلقات کا ایک توسیعی ورژن ثابت ہوگا۔ فی الحال، حکومتی حلقے اسے پاکستان کی معاشی اور سیکیورٹی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
