ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں وفد وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف/فوجی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتوں کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گیا، جبکہ اس پیش رفت کے فوراً بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایلچیوں کے مجوزہ دورۂ پاکستان کو منسوخ کر دیا۔ اس طرح پاکستان کی ممکنہ سفارتی کوششوں کے گرد بننے والی غیر یقینی صورتِ حال مزید گہری ہو گئی۔
ایرانی مؤقف شروع سے کافی واضح دکھائی دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق تہران نے اس دورے کو دو طرفہ نوعیت کا قرار دیا اور یہ تاثر قبول نہیں کیا کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان کسی براہِ راست رابطے یا بیک چینل بات چیت کا فوری امکان موجود ہے۔ عراقچی بعد ازاں اپنے وسیع تر علاقائی دورے کے اگلے مرحلے کے لیے روانہ ہو گئے، جس سے یہ اشارہ بھی ملا کہ ایران اس وقت اپنی سفارت کاری کو ایک بڑے خطے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے، نہ کہ صرف پاکستان میں کسی ایک ممکنہ رابطے کے حوالے سے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقاتیں بہرحال اہم تھیں۔ پاکستان ایک عرصے سے خود کو ایسے ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جو کشیدہ علاقائی حالات میں رابطے کا پل بن سکتا ہے۔ اسی لیے عراقچی کی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقاتوں کو محض رسمی سفارتی سرگرمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان ملاقاتوں نے کم از کم یہ ضرور ظاہر کیا کہ پاکستان خطے میں اپنے کردار کو فعال رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، امریکا اور خطے کے دوسرے فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا پہلے ہی کمزور ہے۔ یہ تجزیہ دستیاب رپورٹس کی نوعیت سے اخذ ہوتا ہے۔
دوسری طرف، امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیراڈ کشنر کے متوقع دورے کی منسوخی نے پوری صورتحال کو اور نمایاں بنا دیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ان کے پاکستان آنے کا منصوبہ روک دیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ واشنگٹن ابھی اس چینل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نہیں، یا کم از کم اس مرحلے پر اس کے اندر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر یہ دورہ ہوتا تو اسلام آباد ایک بار پھر ایک غیر معمولی سفارتی مرکز بن سکتا تھا۔
اس تمام پیش رفت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران نے پاکستان میں اپنی موجودگی کو دو طرفہ دائرے میں محدود رکھا، پاکستان نے رابطہ کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کی، مگر امریکی جانب سے دورہ منسوخ ہونے کے بعد فوری سفارتی پیش رفت کی امید کمزور پڑ گئی۔ فی الحال منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ اسلام آباد میں ممکنہ پیش رفت کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن وہ کھلا بھی نہیں جسے کسی بڑی سفارتی کامیابی کا آغاز کہا جا سکے۔
