اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں، جس کے بعد شہر میں ٹریفک کی نقل و حمل مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کاروباری مراکز کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں بھی نرمی کر دی گئی ہے، جو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری سخت سیکیورٹی اقدامات کے بعد معمول کی زندگی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ منگل کی شب جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے بعد ٹرانسپورٹ یونینز اور تاجر برادری نے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اب انٹر سٹی اور اندرونِ شہر پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے کسی قسم کے خصوصی پرمٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کاروباری طبقے کے لیے یہ فیصلہ بڑی ریلیف لے کر آیا ہے۔ مارکیٹوں کو رات 9 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ ریستورانوں کو آدھی رات 12 بجے تک کام کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے تنبیہ کی ہے کہ اوقات میں نرمی کا مطلب ضوابط سے استثنیٰ نہیں؛ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ دکان یا ہوٹل کو فوری سیل کر دیا جائے گا۔ گزشتہ پابندیوں نے شہر کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا تھا، جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوئی اور مقامی سطح پر قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو توقع ہے کہ ٹرکوں کی آمدورفت بحال ہونے سے اگلے 48 گھنٹوں میں اشیاء کی فراہمی معمول پر آ جائے گی۔ پولیس اور ٹریفک حکام کو شہر کے داخلی راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، تاہم سیکیورٹی کے حوالے سے "ہائی الرٹ” برقرار رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بعد کیا گیا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے سے عام شہریوں کی مشکلات میں کمی آئے گی، جنہیں گزشتہ کئی ہفتوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث شدید دشواری کا سامنا تھا۔ تاہم، انتظامیہ نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ نرمی مستقل نہیں ہے اور سیکیورٹی کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔ شہر کا امن برقرار رکھنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور آنے والے دنوں میں ان اقدامات کے اثرات کا بغور مشاہدہ کیا جائے گا۔
