سال کی سب سے شاندار فلکیاتی سرگرمی، ‘پرسید’ شہابی بارش، آج رات اپنے عروج پر ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق، اس سال آسمانی حالات ایسے ہیں کہ عام آنکھ سے بھی فی گھنٹہ 100 تک ٹوٹتے تارے دیکھے جا سکیں گے، جو اسے گزشتہ ایک دہائی کا بہترین نظارہ بناتا ہے۔
اس رات کی خاص بات چاند کی غیر موجودگی ہے۔ چاند کا ایک باریک ہلال جلد ہی غروب ہو جائے گا، جس سے آسمان پر گہرا اندھیرا چھا جائے گا۔ روشنی کی کمی ستاروں کے نظارے کو مزید واضح کر دیتی ہے۔ جن لوگوں نے شہر کی مصنوعی روشنیوں سے دور دیہی علاقوں کا رخ کیا ہے، وہ اس قدرتی ڈرامے کو زیادہ بہتر طریقے سے دیکھ سکیں گے۔
ماہرِ فلکیات ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "اکثر چاند کی چمک ہلکی شہابی لکیروں کو دھندلا دیتی ہے، لیکن آج رات ایسا نہیں ہوگا۔ چھوٹے سے چھوٹے ذرات بھی جو سویفٹ ٹٹل دمدار ستارے سے خارج ہوتے ہیں، آج رات ننگی آنکھ سے دیکھے جا سکیں گے۔”
اس نظارے کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں۔ درحقیقت، دوربین آپ کے دیکھنے کے زاویے کو محدود کر دیتی ہے۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی تاریک جگہ پر لیٹ جائیں اور اپنی آنکھوں کو اندھیرے کا عادی ہونے کے لیے کم از کم 20 منٹ دیں۔
شہاب ثاقب کا مرکز آسمان پر شمال مشرق کی جانب ‘پرسیس’ برج ہے، لیکن یہ لکیریں پورے آسمان پر کہیں بھی دکھائی دے سکتی ہیں۔ یہ نظارہ دراصل زمین کے اس ملبے کے راستے سے گزرنے کا نتیجہ ہے جو نامی دمدار ستارے نے پیچھے چھوڑا تھا۔ جب یہ ذرات 1 لاکھ 33 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے کرہ ہوائی سے ٹکراتے ہیں تو جل کر روشنی خارج کرتے ہیں۔
نظارے کا اصل وقت آدھی رات سے فجر تک ہے۔ اگر آپ باہر نکلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے ساتھ گرم چادر رکھیں اور ایک ہی جگہ پر قیام کریں۔ آپ جتنی دیر اندھیرے میں رہیں گے، آپ کی آنکھیں اتنی ہی زیادہ باریک اور مدھم لکیروں کو پہچاننے کے قابل ہوں گی۔
یہ سال کی بہترین فلکیاتی رات ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ کی جاگنے کی صلاحیت پر منحصر ہے، لیکن فلکیاتی واضحیت اور تعداد کے اعتبار سے آج رات آسمان اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔
