چوئی نے رواں ہفتے اپنا نیا گیمنگ لیپ ٹاپ ‘جی ٹی بک ایکس’ متعارف کروا دیا ہے، جس میں این ویڈیا کا پرانا آر ٹی ایکس 3050 جی پی یو استعمال کیا گیا ہے۔ کمپنی اس مشین کو گیمرز کے لیے ایک سستا اور آسان انتخاب کے طور پر پیش کر رہی ہے، تاہم چار سال پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال اس بات کا غماز ہے کہ کمپنی نے کارکردگی کے بجائے قیمت کم رکھنے کو ترجیح دی ہے۔
یہ اقدام موجودہ مارکیٹ کے رجحان سے بالکل برعکس ہے۔ آج کل لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنیاں انٹری لیول (بنیادی) ماڈلز میں بھی آر ٹی ایکس 40-سیریز کے نئے پروسیسرز استعمال کر رہی ہیں۔ پرانے 3050 کارڈ کے انتخاب سے چوئی ان خریداروں کو متوجہ کرنا چاہتی ہے جو جدید ترین گرافکس فیچرز کے بجائے قیمت میں کمی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
یہ لیپ ٹاپ ہارڈکور گیمرز کے لیے نہیں ہے۔ یہ ان طلبہ یا عام صارفین کے لیے ہے جو روزمرہ کے دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گیمنگ کرنا چاہتے ہیں۔ آر ٹی ایکس 3050 اب بھی ‘ویلورنٹ’ یا ‘فورٹ نائٹ’ جیسی گیمز کو 1080p ریزولوشن پر چلانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جدید اور بھاری گرافکس والی گیمز کے لیے یہ مشین کافی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
چوئی کو اس وقت مارکیٹ میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ لینووو اور ایسر جیسی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کمپنی کو اپنی قیمتیں کم رکھنا پڑتی ہیں۔ تاہم، اب پرانے 30-سیریز اور نئے 4050-سیریز والے لیپ ٹاپس کی قیمتوں میں فرق بہت کم رہ گیا ہے۔ خریداروں کے لیے اب یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ چوئی کا یہ نیا ماڈل لیں یا کسی بڑی کمپنی کا ڈسکاؤنٹ پر ملنے والا بہتر کولنگ اور کوالٹی والا لیپ ٹاپ۔
جی ٹی بک ایکس کا ڈیزائن سادہ اور ڈسپلے کا معیار اچھا ہے، جو اس برانڈ کی بنیادی پہچان ہے۔ تاہم، ہارڈویئر کے پرانے انتخاب سے ایسا لگتا ہے کہ کمپنی نے اپنے اسٹاک میں موجود پرزوں کو نکالنے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔
جو صارفین سخت بجٹ پر ہیں، ان کے لیے جی ٹی بک ایکس ایک فعال مشین ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن جو لوگ جدید ترین کارکردگی یا مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے پرانے جی پی یو کے ساتھ اس لیپ ٹاپ کا انتخاب کرنا ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔
