میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات میں ایک نیا اور ہولناک موڑ سامنے آیا ہے۔ فرانزک ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ جس قمیض میں مقتول کی لاش ملی تھی، اس پر تیزاب کے نشانات موجود ہیں۔ یہ انکشاف ابتدائی طبی رپورٹ کے برعکس ہے، جس میں صرف جسمانی تشدد اور اندرونی چوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی ٹیم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیزاب کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی عام واردات نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ کیمیائی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ تیزاب کا استعمال مقتول کی موت سے چند لمحے قبل یا جدوجہد کے دوران کیا گیا تھا۔
ایک تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "تیزاب کا استعمال حادثاتی نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک واضح پیغام تھا جو قاتلوں نے مقتول کو دیا ہے۔”
مقتول کے لواحقین کا مؤقف ہے کہ میر رضا علی کو مقامی لینڈ ڈویلپرز کی جانب سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ تاہم، پولیس اب تک ان دھمکیوں اور اس پرتشدد واقعے کے درمیان کوئی ٹھوس کڑی نہیں جوڑ سکی تھی۔ فرانزک رپورٹ کے بعد اب تفتیشی ادارے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقتول کے موبائل ڈیٹا کو دوبارہ کھنگال رہے ہیں تاکہ تیزاب کے ماخذ تک پہنچا جا سکے۔
اس کیس میں پولیس کی ابتدائی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقتول کے کپڑوں کو فرانزک لیب بھجوانے میں چھ دن کی تاخیر ہوئی، جس سے شواہد ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
اگرچہ پولیس نے تاحال کسی کو باضابطہ طور پر نامزد نہیں کیا، لیکن ایک بااثر مقامی ڈویلپر کے دو قریبی ساتھیوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ عینی شاہدین نے ان افراد کو قتل کی رات جائے وقوعہ کے قریب دیکھا تھا۔
یہ کیس اب ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں مقامی پولیس پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مقتول کے اہل خانہ ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ کیس کو بااثر شخصیات کے دباؤ سے آزاد رکھا جا سکے۔
فی الحال، قمیض پر موجود تیزاب کے یہ داغ ہی وہ واحد ٹھوس سراغ ہیں جو قاتلوں تک پہنچنے کا راستہ کھول سکتے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ کار ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
