سندھ کے وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن شرجیل انعام میمن نے میر رضا علی کے قتل میں اپنے اور اپنے بیٹے کے ملوث ہونے کے بے بنیاد دعووں کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں باضابطہ شکایت درج کروا دی ہے۔
شرجیل میمن کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں سوشل میڈیا کے متعدد اکاؤنٹس اور افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ وزیر کا موقف ہے کہ یہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم ہے جس کا مقصد نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے بلکہ سیاسی ماحول میں اشتعال انگیزی پیدا کرنا بھی ہے۔
میر رضا علی کے قتل کے بعد سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا ایک طوفان برپا ہے۔ نامعلوم اکاؤنٹس کی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس واقعے کے پیچھے وزیر کے خاندان کا ہاتھ ہے، تاہم ان دعووں کی حمایت میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
شرجیل میمن کی قانونی ٹیم نے کو ان تمام سوشل میڈیا پوسٹس اور اکاؤنٹس کے اسکرین شاٹس فراہم کر دیے ہیں جن کے ذریعے یہ الزامات پھیلائے گئے۔ وزیر نے ان الزامات کو "بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز” قرار دیتے ہوئے متعلقہ اکاؤنٹس کا فارنزک آڈٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سائبر کرائم ایجنسی کے لیے اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ معلومات کے پھیلاؤ کی رفتار ہے۔ اگرچہ ایجنسی نے ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن پاکستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں گمنام ڈیجیٹل مہمات کے اصل محرکات تک پہنچنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ صوبائی قیادت اب ڈیجیٹل بہتان تراشی کے خلاف سخت موقف اختیار کر رہی ہے۔ روایتی پریس ریلیز کے بجائے، شرجیل میمن نے وفاقی تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ان عناصر کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
شکایت درج کروانے کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ "یہ صرف میرے نام کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو بغیر کسی ثبوت کے پرتشدد جرائم میں ملوث ٹھہرانے کا ایک خطرناک رجحان ہے۔”
تحقیقات جاری ہیں، تاہم کی جانب سے ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا تحقیقات کے حتمی نتائج کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ جب تک ایجنسی ان الزامات کے اصل ذرائع کا سراغ نہیں لگا لیتی، تب تک یہ پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہے گا، جس سے وزیر کی قانونی جنگ مزید طویل ہو سکتی ہے۔
