جولائی کے مہینے میں دنیا بھر کے سمندروں کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا، جس نے ماحولیاتی سائنسدانوں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سمندری سطح کے درجہ حرارت میں یہ غیر معمولی اضافہ ایک ایسے گرم ہوتے ہوئے سیارے کی عکاسی کرتا ہے جہاں موسمیاتی تغیر اب صرف ایک بحث نہیں، بلکہ ایک ٹھوس حقیقت بن چکا ہے۔
عام آدمی کے لیے یہ محض ایک نمبر ہو سکتا ہے، لیکن سمندری حیات کے لیے یہ بقا کی جنگ ہے۔ مرجان کی چٹانیں جنہیں سمندر کا نرسری کہا جاتا ہے — شدید ہیٹ اسٹریس کا شکار ہیں۔ جب پانی رات کے اوقات میں بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا، تو ان چٹانوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا، جس کے نتیجے میں وہ سفید ہو کر مر رہی ہیں۔
اس اضافے کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک تو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی موسمیاتی تبدیلی اور دوسرا ‘ایل نینو’ کا اثر۔ یہ قدرتی موسمی پیٹرن بحر الکاہل کی گہرائیوں سے گرمی کو سطح پر لے آتا ہے، جس سے عالمی درجہ حرارت میں تیزی آتی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال اس لیے خطرناک ہے کہ ہم پہلے ہی ایک بلند بیس لائن پر کھڑے ہیں، جس کی وجہ سے ہر نیا ایل نینو پچھلے ریکارڈ توڑ رہا ہے۔
سمندری ہیٹ ویوز اب کبھی کبھار پیش آنے والا واقعہ نہیں رہیں، بلکہ ایک معمول بنتی جا رہی ہیں۔ شمالی بحر اوقیانوس میں درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے کئی ڈگری اوپر چلا گیا ہے، جس نے ماہرینِ موسمیات کو حیران کر دیا ہے۔ یہ گرمی صرف سطح تک محدود نہیں؛ یہ گہرائیوں میں جا کر سمندری کرنٹ اور غذائی چکر کو بھی متاثر کر رہی ہے، جس پر دنیا بھر کے ماہی گیروں کا روزگار منحصر ہے۔
ماہی گیری کی صنعت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے۔ گرم پانیوں کے باعث مچھلیوں کی اقسام ٹھنڈے علاقوں کی تلاش میں قطبین کی جانب ہجرت کر رہی ہیں، جس سے روایتی شکار گاہیں خالی ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال ان ساحلی برادریوں کے لیے خوراک کی قلت کا باعث بن رہی ہے جو اپنی روزی روٹی کے لیے براہِ راست سمندر پر انحصار کرتی ہیں۔
دنیا بھر کی توجہ اکثر ہوا کے درجہ حرارت پر مرکوز رہتی ہے، لیکن سمندر دراصل زمین کا سب سے بڑا "ہیٹ سنک” ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی 90 فیصد اضافی گرمی سمندر ہی جذب کرتے ہیں۔ جب سمندر اپنی برداشت کی حد تک پہنچ جاتے ہیں، تو ماحول سے اس گرمی کو نکالنے کا کوئی دوسرا قدرتی نظام نہیں بچتا۔
سائنسی ڈیٹا سے ملنے والے اشارے واضح ہیں: وہ تھرمل بفر جس نے صدیوں تک زمین کو شدید گرمی سے بچا رکھا تھا، اب کمزور پڑ رہا ہے۔ جولائی کا یہ ریکارڈ توڑ گرمی کا دورانیہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ آنے والے مزید گرم اور مشکل مہینوں کا پیش خیمہ ہے۔
