لاہور — لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں چند روز قبل پراسرار طور پر دم توڑنے والی دو خواتین کی موت کے معاملے پر پولیس نے ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کسی قسم کے تشدد یا جسمانی زخموں کے نشانات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
لاشیں ایک رہائشی مکان سے برآمد ہوئی تھیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی سطح پر اسے قتل کا واقعہ سمجھا جا رہا تھا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا تھا۔
بدھ کی رات موصول ہونے والی میڈیکل رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا۔ حکام نے موت کی حتمی وجہ تاحال ظاہر نہیں کی ہے، جس کا انحصار خون کے نمونوں کی کیمیائی رپورٹ پر ہے۔
تفتیشی ٹیم کے ایک سینئر افسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے جسمانی زخموں، دفاعی نشانات یا جدوجہد کے آثار تلاش کیے، لیکن میڈیکل بورڈ کو ایسی کوئی چیز نہیں ملی۔ اب تحقیقات کا رخ طبی تاریخ اور ماحولیاتی عوامل کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔”
واقعے کے فوری بعد مقامی آبادی میں یہ خدشات پائے جا رہے تھے کہ شاید کسی بیرونی شخص نے گھر میں داخل ہو کر واردات کی ہے۔ پولیس اب قریبی گلیوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ واقعے سے قبل کوئی فرد گھر میں داخل ہوا یا نہیں۔
اگرچہ فارنزک رپورٹ نے علاقے میں کسی پرتشدد کارروائی کے خدشات کو فی الحال کم کر دیا ہے، لیکن لواحقین تاحال صدمے میں ہیں۔ پولیس متوفیات کے قریبی رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انہیں کوئی ایسی بیماری لاحق تھی جس کی وجہ سے یہ اچانک اموات ہوئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹاکسیکولوجی رپورٹ اگلے 48 گھنٹوں میں متوقع ہے، جس کے بعد ہی موت کی حتمی وجہ سامنے آ سکے گی۔ فی الحال جائے وقوعہ کو پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے اور لیب رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
