میر رضا علی کے والد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے کیس کی تفتیش پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دھمکیاں اس وقت شروع ہوئیں جب انہوں نے کیس میں انصاف کے لیے آواز بلند کی۔
خوف و ہراس کی فضا کے ساتھ ساتھ، والد نے تفتیشی عمل کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ثبوتوں کی ترتیب اور ان کی حفاظت کے حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں، جو تحقیقات کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
"ہمیں خاموش کرانے کے لیے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے،” انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے دھمکی دینے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم تصدیق کی کہ اس حوالے سے مقامی پولیس کو باضابطہ شکایات درج کروا دی گئی ہیں۔
اس کیس میں جائے وقوعہ کے قریب موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر شواہد کے تحفظ کا سلسلہ کسی بھی مرحلے پر متاثر ہوا، تو عدالت میں اس مقدمے کا دفاع کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
پولیس حکام نے تاحال ان الزامات پر کوئی تفصیلی جواب نہیں دیا ہے۔ ایک ترجمان نے صرف اتنا کہا کہ تحقیقات "جاری” ہیں، تاہم ثبوتوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے پوچھے گئے مخصوص سوالات پر وہ خاموش رہے۔
متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا انتظار اب ایک خطرے میں بدل چکا ہے۔ والد کا عوامی سطح پر یہ الزامات لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ تفتیشی عمل پر ان کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ ان کا عزم ہے کہ دباؤ کے باوجود وہ شفافیت کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اب سوال یہ نہیں کہ تحقیقات کس سمت جا رہی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا شواہد کو دھمکیوں اور تکنیکی کوتاہیوں سے بچا کر عدالت تک پہنچایا جا سکے گا، یا یہ مقدمہ بھی محض ایک اور خاموش فائل بن کر رہ جائے گا۔
